ریو ڈی جنیرو: برازیل تاریخی قبرستان دریافت ہونے کا ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں تقریباً 150 سال پرانے ایک گھر کی مرمت کے دوران فرش کے نیچے غلامی کے دور سے تعلق رکھنے والا تاریخی قبرستان دریافت ہوا، جس نے برازیل کی تاریخ کے ایک المناک باب کو دوبارہ زندہ کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ حیرت انگیز دریافت برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں اس وقت سامنے آئی جب گھر کی تزئین و آرائش کے دوران مزدوروں نے فرش کے نیچے انسانی ہڈیاں، دانت اور دیگر باقیات دیکھیں۔ بعد ازاں ماہرین آثارِ قدیمہ نے تحقیقات کے بعد تصدیق کی کہ یہ مقام 18ویں اور 19ویں صدی میں استعمال ہونے والے ایک قدیم قبرستان کا حصہ تھا۔
مورخین کے مطابق 1769 سے 1830 کے درمیان اس مقام پر افریقہ سے لائے گئے تقریباً 20 ہزار سے 40 ہزار غلاموں کو دفن کیا گیا۔ ان میں سے بیشتر افراد بحرِ اوقیانوس کے طویل اور سخت سفر کے دوران یا برازیل پہنچنے کے فوراً بعد بیماری، بھوک اور غیر انسانی حالات کے باعث جان کی بازی ہار گئے تھے۔
تحقیقات کے مطابق کئی غلاموں کو اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا، جبکہ بعض لاشوں کو نذرِ آتش بھی کیا گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقام غلامی کے دور کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے۔
گھر کی مالکہ مرسڈیز بپٹسٹا گومز پریرا نے بتایا کہ انہیں اس بات کا ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ ان کا گھر ایک تاریخی قبرستان کے اوپر تعمیر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق آج بھی فرش کے مختلف حصوں کی کھدائی کے دوران انسانی باقیات سامنے آ جاتی ہیں۔
بعد ازاں اس تاریخی مقام کو محفوظ بنا کر یہاں پریتوس نووس انسٹی ٹیوٹ کے نام سے ایک میوزیم قائم کیا گیا، جہاں دریافت ہونے والی آثارِ قدیمہ کی باقیات کو محفوظ رکھا گیا ہے۔ یہ میوزیم غلامی کے دور کی تاریخ، انسانی المیے اور افریقی غلاموں کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے اہم مرکز بن چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ برازیل تاریخی قبرستان دریافت نہ صرف آثارِ قدیمہ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے بلکہ یہ غلامی کے دور میں پیش آنے والے انسانی سانحات کی یاد دہانی بھی کراتی ہے۔
