اسلام آباد(نیوزڈیسک)اسلام آباد نے ہفتے کے روز ہندوستانی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے “اشتعال انگیز ریمارکس” کی مذمت کرتے ہوئے بھارت کو انتباہ جاری کیا کہ ہندوستان پڑوسی ملک میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی کوشش کرنے کے بعد سرحد پار سے فرار ہونے والے کسی بھی شخص کو مارنے کے لیے پاکستان میں داخل ہوگا۔وزیر کے تبصرے برطانیہ کے گارڈین اخبار کی ایک رپورٹ شائع کرنے کے ایک دن بعد سامنے آئے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ بھارتی حکومت نے اب تک پاکستان میں تقریباً 20 افراد کوقتل کروایا ۔
راج ناتھ کا پاکستان میں کارروائی کا بیان خطے کو جنگ کی طرف دھکیلنے کی جانب ایک بڑی سازش کا حصہ ہے ۔ پاکستان عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کی تردید کرتا ہے۔اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے راج ناتھ سنگھ کے ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا، “25 جنوری 2024 کو، پاکستان نے ناقابل تردید ثبوت فراہم کیے، جو پاکستانی سرزمین پر بھارت کے ماورائے عدالت اور بین الاقوامی قتل عام کی مہم کو واضح کرتے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:اسرائیل ، ایران کشیدگی ، عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ
پاکستان میں بھارتی دراندازی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ بھارت نے اوچھے ہتھکنڈے استعال کرتے ہوئے پاکستان میں قبل ازیں متعدد افراد کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھایا ۔ جن میں آزادکشمیر کے شہری بھی ہیں۔پاکستانی دفترخارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ بین الاقوامی برادری کے لیے ضروری ہے کہ وہ بھارت کو اس کے گھناؤنے اور غیر قانونی اقدامات کے لیے جوابدہ ٹھہرائے‘‘۔دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان “کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنی خودمختاری کا تحفظ کرنے کے اپنے ارادے اور صلاحیت میں پرعزم ہے”، اس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے جب پاکستان نے فروری 2019 میں پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک ہندوستانی جیٹ کو مار گرایا، اور کہا کہ اس نے “بھارت کا فوجی برتری کے دعوے کاکھوکھلا پن کھول کر رکھ دیا۔
ترجمان فتر خارجہ نے کہا کہ راج ناتھ سنگھ کے تبصرے نریندر مودی کی حکومت کی معمول کی نفرت انگیز بیان بازی کا حصہ ہیں جو کہ انتہائی قوم پرستی کے جذبات کو ہوا دے رہے ہیں،بھارتی سیاستدان انتخابی فائدے کیلئے پاکستان کا نام استعمال کرکے سیاسی فائدے حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے عوام میں مقبول ہوسکیں۔ااس طرح کا غیر ذمہ دارانہ اور غیر ذمہ دارانہ رویہ نہ صرف علاقائی امن کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ طویل مدتی میں تعمیری مشغولیت کے امکانات کو بھی روکتا ہے۔


