اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سینئر وکیل فیصل چوہدری نے صوبائی سیاسی بحران، اسمبلی میں استعفوں کے قانونی پہلو اور آئینی طریق کار پر مفصل تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ تنازعات کا حل صرف سیاسی بیانات یا جذباتی ردِ عمل نہیں بلکہ آئینی تقاضوں کی واضح پابندی اور عدالتی عمل کے ذریعے ممکن ہے۔
اے بی این کے پروگرام “ڈیبیٹ ایٹ 8” میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل چوہدری نے کہا کہ جب کوئی رکن یا وزیر استعفیٰ پیش کرتا ہے تو اس کی قانونی حیثیت، فارم کی درستگی اور قبولیت کے عمل کو شفاف طریقے سے دیکھا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کی متنازعہ تاویل یا بنیاد فراہم نہ ہو۔ ان کے مطابق اسمبلی کے اندر ہونے والے انتخابات اور ووٹنگ کے عمل کو آئین اور رولز کے مطابق ہی پرکھا جانا چاہیے اور اگر کسی مرحلے پر قانونی شق یا طریقہ کار پر اعتراض ہو تو وہ مناسب فورم یعنی عدالت یا الیکشن کمیشن کے سامنے اٹھایا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پچھلے کئی سیاسی واقعات کی عدالت سے تصدیق یا تردید کے بعد موجودہ قوانین اور رائج عمل کی تشریح سامنے آ چکی ہے، اس لیے ناصحانہ رویے یا شور و غلغلے سے معاملات حل نہیں ہوں گے۔ فیصل چوہدری نے نشاندہی کی کہ اگر استعفیٰ کی دستاویزی شکل یا طریقۂِ پیش کردگی میں شک ہو تو متعلقہ حکام کو قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے اور پارٹیوں کو بھی توازن برقرار رکھتے ہوئے آئینی راستے اختیار کرنے چاہئیں۔
فیصل چوہدری نے سیاسی جماعتوں کو مشورہ دیا کہ وہ عوام کے ووٹ کی حرمت کو مقدم رکھیں اور جمہوری اصولوں کے دائرے میں رہ کر اختلافات حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال یا شور شرابے سے عارضی فائدہ تو حاصل ہوسکتا ہے مگر ریاستی مفاد اور آئینی سالمیت کو برقرار رکھنا طویل مدت کی ضرورت ہے۔ فیصل چوہدری نے عدالتوں کے کردار کی اہمیت پر زور دیا اور تجویز کی کہ پیچیدہ سیاسی معاملات کو عدالتی اور آئینی طریقہ کار کے تحت حل کیا جائے تاکہ آئندہ بھی کسی کو قانونی یا آئینی طور پر کمزور موقف لاحق نہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ قانون کی حکمرانی اور شفاف انتخابی و پارلیمانی طریقہ کار ہی ملک میں سیاسی استحکام لانے کا واحد ذریعہ ہیں، اس لیے تمام فریقین کو جذباتی تقاضوں کے بجائے قانونی تقاضوں اور آئینی حدود کو سامنے رکھ کر قدم اٹھانا چاہیے۔
وفاق صوبائی لیڈرشپ اور علماء کو شامل کرکے پالیسی بنائے ،حاجی غلام علی
سابق گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے پاک افغانستان تعلقات اور سرحدی کشیدگی کے پس منظر پر تفصیلی مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کا راستہ فوجی آپریشنز کے علاوہ سیاسی اتفاق رائے اور جامع حکمتِ عملی سے ہو کر گزرتا ہے۔
اے بی این کے پروگرام “ڈیبیٹ ایٹ 8” میں گفتگو کرتے انہوںنے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں میں افغان بھائیوں کی میزبانی اور امداد کے حوالے سے غیر معمولی قربانیاں دی ہیں، مگر بعض عناصر نے اس حسنِ سلوک کا غلط فائدہ اٹھایا اور پاکستان کے خلاف منظم کارروائیاں کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی خودمختاری اور شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے، اس لیے اگر افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف سازشیں یا دہشت گردانہ کارروائیاں جاری رہیں تو ان کا سخت جواب دیا جائے گا، مگر اس اقدام سے پہلے قومی سطح پر سیاسی مشاورت اور اتفاق رائے ضروری ہے۔
حاجی غلام علی نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ صوبائی قیادت، مذہبی رہنماؤں اور سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرتے ہوئے ایک قومی کمیٹی تشکیل دے تاکہ سرحدی بحران کا جامع اور متفقہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔ ان کے بقول صرف عسکری آپریشنز وقتی نتائج دے سکتے ہیں؛ مستقل امن کے لیے دونوں طرف عوامی سطح پر اعتماد سازی، سیاسی مذاکرات اور اجتماعی فیصلہ سازی لازمی ہیں۔
حاجی غلام علی نے تیور میں کہا کہ اگر مسئلہ بات چیت اور سیاسی مشاورت سے حل ہو جائے تو جنگ نہ ہونے کے برابر ہوگی، البتہ جب بین الاقوامی اور علاقائی قوتیں اس تنازع میں مداخلت اور پراکسی پالیسی اپناتی ہیں تو صورتحال مزید پیچیدہ بن جاتی ہے۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ افغانستان میں بعض قوتیں بیرونی مفادات کے تحت حرکت کر رہی ہیں، اس لیے پاکستان کو اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ٹھوس اور مربوط حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
سابق گورنر نے کہا کہ مذہبی رہنما، جمہوری جماعتیں اور عسکری قیادت اس موضوع پر ایک دوسرے کے ساتھ اشتراک کریں تو بہتر حکمتِ عملی بن سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کی بقا، فوجی و شہری جانی نقصان سے بچانے اور علاقے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے سب کو ایک صفحے پر لانا ضروری ہے۔
حاجی غلام علی نے قومی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ اس حساس مسئلے پر سیاسی بیانات کے بجائے عملی اقدامات کریں، صوبوں کو اعتماد میں لیا جائے، اور عوام کو بریفنگ دے کر ان کے تحفظات دور کیے جائیں تاکہ کسی بھی آپریشن کے بعد سیاسی خلا یا عوامی ناراضگی نہ رہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ریاست اور عوام کے مفاد میں فیصلہ کن مگر متفقہ پالیسیاں اپنائی جائیں تاکہ خطے میں دیرپا امن کا راستہ ہموار ہو سکے۔
مزیدپڑھیں:بہاولپور: دھی رانی پروگرام کے تحت 174 جوڑوں کی اجتماعی شادی، ہر جوڑے کو 2 لاکھ روپے دیے گئے
