Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

والد کی قدرتی موت نہیں، سازش تھی! رفسنجانی کی بیٹی کا حکومت پر سنگین الزام

تہران ( اوصاف نیوز)‌ایران کے سابق صدر علی اکبر رفسنجانی کی بیٹی کے حیران کن بیان نے عالمی توجہ مبذول کرائی ہے اور ایرانی عدالت نے بھی نوٹس لے لیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی عدالت نے علی اکبر رفسنجانی کی بیٹی فائزہ ہاشمی رفسنجانی کو طلب کر لیا ہے۔ ایک عدالتی اہلکار نے اس کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔

فائزہ ہاشمی رفسنجانی کے خلاف یہ مقدمہ ایک بیان کے بعد درج کیا گیا تھا جس میں انہوں نے حکومت پر اپنے والد سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے قتل کا الزام لگایا تھا۔

فائزہ ہاشمی رفسنجانی کو ان کے بے بنیاد بیان اور بے بنیاد الزام پر وضاحت کے لیے عدالت میں طلب کیا گیا ہے۔

سابق صدر کی صاحبزادی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ کچھ لوگ میرے والد کے قتل کا ذمہ دار اسرائیل یا روس کو سمجھتے ہیں لیکن میرے خیال میں قتل میں حکومتی لوگ ملوث تھے۔

فائزہ رفسنجانی کا مزید کہنا تھا کہ ان کے والد علی اکبر رفسنجانی بھی ملک کی بعض اہم شخصیات کی راہ میں رکاوٹ تھے۔ اس لیے ان لوگوں نے اس کے والد کو راستے سے ہٹا دیا۔

یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ سابق صدر علی اکبر رفسنجانی کے اہل خانہ نے ان پر فطری موت کے بجائے قتل کا الزام لگایا ہے۔

اس سے قبل سابق صدر کے بیٹے محسن رفسنجانی اور ایک اور بہن فاطمہ نے بھی اپنے والد کی موت کے امکان کو پراسرار قرار دیتے ہوئے قدرتی وجوہات کو مسترد کر دیا تھا۔

پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر یحییٰ رحیم صفوی کے بیانات نے بھی اس معاملے پر تنازع کھڑا کر دیا تھا۔

سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی 17 اگست 1989 سے 2 اگست 1997 تک مسلسل دو بار ملک کے صدر رہے اور جنوری 2017 میں شمالی تہران میں انتقال کر گئے۔
مزید پڑھیں‌:بھارتی کرکٹ بورڈ پر اثر و رسوخ کے استعمال کا الزام، گریگ چیپل بھی میدان میں آگئے

یہ بھی پڑھیں