اسلام آباد(اوصاف نیوز) تاریخ کے سب سے بڑے اور جدید ترین آڈٹ پروگرام میں ایف بی آر نے مصنوعی ذہانت کے عمل میں 70 لاکھ سے زائد انکم ٹیکس گوشوارے شامل کیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے رواں مالی سال کے انکم ٹیکس گوشواروں کے تاریخی اور بڑے پیمانے پر آڈٹ پروگرام کی تیاری مکمل کر لی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کم ٹیکس والے تاجروں اور دیگر مشکوک ٹیکس گوشواروں کی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے 70 لاکھ سے 80 لاکھ انکم ٹیکس گوشواروں کا آڈٹ کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس آڈٹ میں ان لینڈ ریونیو کے 8 ہزار افسران و اہلکار اور 4 ہزار آڈیٹرز حصہ لیں گے۔ ریٹرن کی ابتدائی جانچ مائیکروسافٹ ایکسل فلٹرز اور فارمولوں کے ذریعے کی جائے گی، جبکہ AI اور دیگر ڈیجیٹلائزیشن ٹولز بھی آڈٹ میں مدد فراہم کریں گے۔
آڈٹ تین مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا، پہلے مرحلے میں کمرشل اور انڈسٹریل انکم ٹیکس گوشوارے، دوسرے مرحلے میں سنگل اونر کمپنیوں سمیت دیگر رجسٹرڈ کمپنیوں اور تیسرے مرحلے میں افراد اور تنخواہ دار طبقے کے گوشواروں کا آڈٹ کیا جائے گا۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ انکم ٹیکس گوشوارے میں غلط معلومات فراہم کرنے، دولت چھپانے، بے نامی یا کسی اور کے نام پر اثاثے رکھنے یا غیر ضروری اور غیر متعلقہ معلومات فراہم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ سوشل میڈیا سے ہونے والی آمدنی بھی ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ٹیکس دینے والے تاجروں کا آڈٹ اس سال اولین ترجیح ہو گا۔ اس تاریخی آڈٹ پروگرام کا مقصد ٹیکس چوری کے تمام پہلوؤں پر نظر رکھنا اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔
مزید پڑھیں:ای چالان آن لائن کیسے چیک کریں؟ شہریوں کی بڑی مشکل حل
