پشاور( اوصا ف نیوز)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے کل منگل کو ملاقات نہ کرائی تو آئندہ کا لائحہ عمل بنائینگے ،بند کمروں کے فیصلوں سے خیبرپختونخوا کے عوام کو نقصان پہنچا۔پشاور میں بابر سلیم سواتی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ یہاں کارکردگی کے باعث ہمیں تین مرتبہ حکومت ملی
، قبائلی اضلاع کا شیئر اور صوبے کے دستیاب وسائل پر کارکردگی دکھائی تب ہی حکومت میں آئے ، قبائلی اضلاع کو 2018 میں کے پی کے میں ضم کیا گیا لیکن فنڈز نہیں دیے گئے ، این ایف سی ایوارڈ کا 2018 سے 2025تک خیبرپختونخوا کا حصہ نہیں دیا جا رہا ہے
، منگل کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرائی گئی تو اُس کے بعد لائحہ عمل بنایا جائے گا،4 نومبر سے عمران خان کو آئسولیشن میں رکھا گیا ہے ۔سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ امن و امان کے لئے جو حل ہم بتارہے ہیں اِس سے اَمن بحال ہو گا، بند کمروں کے فیصلوں سے خیبرپختونخوا کے عوام کو نقصان پہنچا، اُن کا کہنا تھا پارلیمانی پارٹی اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں شرکت کریں گے ، وہاں پر ضم اضلاع اور صوبے کے حقوق کیلئے لڑیں گے ۔
سب کو مل کر صوبے کیلئے لڑنا ہوگا، سیاسی جدوجہد الگ، این ایف سی ایوارڈ سمیت صوبے کے حقوق کیلئے مشترکہ لڑنا ہوگا۔ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی میڈیا سے بانی سے متعلق تشویش ناک خبریں آ رہی ہیں۔
ہم اڈیالہ گئے ، وہاں دو منٹ کے لیے نہیں ملنے دیا گیا، ہائی کورٹ بھی گئے پھر بھی ملاقات نہیں ہو سکی۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے احتجاج کریں گے ، پھر اڈیالہ جیل بھی جائیں گے ۔وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ ہمیں تصادم کی طرف لے جانے کی کوشش ہو رہی ہے لیکن ہم نہیں جائیں گے ۔ صوبے کے وزیرِ اعلیٰ کا نام سٹاپ لسٹ میں ڈالا گیا ہے
، اس صوبے کے وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے ۔سپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی کا کہنا تھا کہ دیرپا امن کے لئے خیبرپختونخوا حکومت کی بات ماننی پڑے گی، اس ملک میں مختلف ادارے ہیں فوج کو انڈیا نہیں بلکہ پاکستان کی فوج سمجھتے ہیں۔ ادھر وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کابینہ اجلاس ہر جمعہ کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔اعلامیہ کے مطابق اہم فیصلوں پر عمل درآمد، محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے اجلاس ہر جمعہ کو طلب کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں سونے کی تازہ ترین قیمت

