Search
Close this search box.
منگل ,09 جون ,2026ء

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عافیہ صدیقی کی وطن واپسی سے متعلق کیس میں حکومت سے جواب طلب کرلیا

(اوصاف نیوز)اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صحت اور وطن واپسی سے متعلق کیس میں وفاقی حکومت سے 20 جنوری کو جواب طلب کرلیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر کی سربراہی میں جسٹس خادم حسین سومرو، جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل لارجر بینچ نے فوزیہ صدیقی کی درخواست پر سماعت کی ۔

درخواست گزار کے وکیل عمران شفیق ایڈوکیٹ، وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ عدالت میں پیش ہوئے۔

عمران شفیق نے کہا کہ یہ درخواست دراصل عافیہ صدیقی کی وطن واپسی سے متعلق ہے، جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریماکس دیے کہ آپ نے اوریجنل پٹیشن میں یہ استدعا نہیں کی تھی،امریکا کے ساتھ مجرمان کی حوالگی کا معاہدہ تو ہے۔

عمران شفیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالت نے ڈائریکشنز دے رکھی ہیں، توہین عدالت کی درخواست بھی دائر ہے جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس حوالے سے بہت سی باتیں اور فارن پالیسی ایشوز ہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ایک آرڈر فیلڈ میں ہے، کیا آپ نے اس کو چیلنج کیا ہے؟ آپ نے عدالتی احکامات نہیں مانے اس لیے آپ کو توہین عدالت کے نوٹس ہوئے تھے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ہم نے ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے تاہم درخواست تاحال مقرر نہیں ہوئی اب یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہماری درخواست آئینی عدالت میں لگے یا سپریم کورٹ میں۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ اس طرح تو وکیل درخواست گزار کا مسئلہ لمبا ہو جائے گا۔ اے جی آفس کے لیے کیس مقرر کروانا کون سا مسئلہ ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ میڈیکل سہولیات کا معاملہ آپ نے امریکی حکام سے اٹھایا تو انہوں نے کیا جواب دیا؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل بولے جواب آیا کہ امریکی جیل میں میڈیکل سہولیات دستیاب ہیں، آپ کی مرضی کے ڈاکٹر کو اجازت نہیں ملے گی۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ ہم اس پٹیشن کو طے کرنا چاہتے ہیں، چار ججز کے پاس اتنا وقت نہیں کہ روز روز بیٹھیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نے ویزا پراسیس سمیت دیگر سہولیات مہیا کیں۔

عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وفاقی حکومت نے کچھ نا کچھ تو کرنا ہو گا، آپ بریف جمع کرائیں۔عدالت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس کی سماعت 20 جنوری تک ملتوی کردی۔
مزید پڑھیں:ایک ہی گھر کے 13 افراد قتل کرنیوالے مجرم کو 80 ہزار لوگوں کے سامنے سزا ئے موت سنا دی گئی

یہ بھی پڑھیں