اسلام آباد (اوصاف نیوز) انسداد دہشت گردی کی عدالت اسلام آباد نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کردی۔
تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت کی جانب سے متعدد بار طلبی کے باوجود ملزمان پیش نہیں ہوئے۔ عدالت نے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی اور ڈاکٹر امجد کے خلاف بھی کارروائی شروع کر دی۔
یاد رہے کہ وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی اور دیگر کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
قبل ازیں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے دہگل ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ این ایف سی اجلاس کے بعد یہاں آئے ہیں، اجلاس میں اپنا کیس پیش کیا ہے، 25ویں ترمیم کے بعد قبائلی اضلاع کو کے پی میں ضم کیا گیا، قبائلی اضلاع کو ان کا حصہ نہیں دیا جارہا، اجلاس میں انہوں نے کہا کہ یہ غیر آئینی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ شرکا نے اصولی طور پر اس پر اتفاق کیا، فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ بدھ تک ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی جائے گی، ذیلی کمیٹی 8 جنوری تک اپنی سفارشات پیش کرے گی، اگلا این ایف سی اجلاس جنوری میں ہوگا، خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، انفراسٹرکچر تباہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمیں ہمارا حق نہیں دیا گیا، آج افسوس ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو ان کے حقوق نہیں دیے جا رہے، تین صوبوں کو ان کے حقوق دیے جا رہے ہیں، انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ ہمیں ہمارا حق دیا جائے گا، ہماری حکومت کے بعد دو بار این ایف سی اجلاس ہوئے، 2022 میں حکومت کی تبدیلی کے آپریشن کے بعد یہ اجلاس جاری نہ رہ سکے، خیبر پختونخوا کے عوام کو توقع ہے کہ ہم ان کے حقوق دیں گے۔ حقوق
انہوں نے کہا کہ عمران خان ہمارے دلوں میں کے پی حکومت نہیں بلکہ وہ ہیں جنہوں نے الیکشن کمیشن میں اس مجرم افغان کے کاغذات نامزدگی میں سہولت فراہم کی۔ پہلے اچھے طالبان اور برے طالبان تھے، اب اچھے افغان اور برے افغان ہیں۔ جو مجرم ہیں انہیں پارلیمنٹ کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ اگر یہ بیرسٹر گوہر کے ہاتھ میں ہوتا تو میں ان سے پہلے مل چکا ہوتا۔
مزیدپڑھیں:پاکستانی طلباء کے لیے اسکالرشپ کا آغاز




