Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

سرکاری افسران کے لیے مسیجنگ ایپ متعارف

اسلام آباد (اوصاف نیوز) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اور ٹیلی کام کو بتایا گیا ہے کہ حکومت سرکاری افسران کے لیے ’بی ای پی‘ کے نام سے ایک محفوظ میسجنگ ایپ لانچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جسے چین کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم وی چیٹ کی طرز پر بنایا گیا ہے۔

منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس رکن قومی اسمبلی سید امین الحق کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فیصل اقبال رتیال نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔

انہوں نے کہا کہ ‘BEEP’ ایپ تیار ہے اور اس کا مقصد سرکاری ملازمین کو ایک محفوظ اور قابل اعتماد مواصلاتی پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘BEEP’ ایپ میں ویڈیو کمیونیکیشن سمیت اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن ہوگا، جو اسے حساس حکومتی معاملات پر بات کرنے کے لیے موزوں بنائے گا۔

آپریشنل اخراجات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایپ کو استعمال پر مبنی فیس ماڈل پر چلایا جائے گا اور مستقبل میں اسے مالی طور پر خود کفیل بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ایپ کو جون 2026 تک لانچ کیا جائے گا۔

وفاقی سیکرٹری آئی ٹی نے واضح کیا کہ ایپ سے آمدن پیدا کرنا بنیادی مقصد نہیں بلکہ ریاستی اداروں کے درمیان محفوظ، موثر اور قابل اعتماد رابطہ اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ میٹا کی ملکیت واٹس ایپ اس وقت پاکستان میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہی ہے تاہم اس کے ڈیٹا سرورز پاکستان میں موجود نہیں ہیں۔

اجلاس کے دوران قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی کوالٹی آف سروس رپورٹ پر سوال اٹھایا اور کہا کہ رپورٹ کا موبائل سگنلز پر 99 فیصد اطمینان کا دعویٰ زمینی حقائق کے برعکس ہے۔

تمام اراکین نے متفقہ طور پر اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ کی بار بار سست روی اور کمزور موبائل سگنلز پی ٹی اے کے دعووں کی نفی کرتے ہیں۔

پی پی پی کی رکن شرمیلا فاروقی نے پی ٹی اے سے اس طریقہ کار پر سوال اٹھایا جس کے تحت اس طرح کے سروے کرائے جاتے ہیں اور مطالبہ کیا کہ مستقبل میں سروس کے معیار کے سروے ایک آزاد اور تیسرے فریق سے کروائے جائیں تاکہ شفافیت اور اعتماد کو یقینی بنایا جا سکے۔

کمیٹی نے یاد دلایا کہ اس نے پہلے ہدایت کی تھی کہ 5 جی سپیکٹرم کی نیلامی پاکستانی روپے میں کی جائے اور قیمتیں غیر ضروری طور پر زیادہ نہ رکھی جائیں۔

کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کی کہ اگر ٹیلی کام آپریٹرز کو کوئی رعایت یا سہولت دی جائے تو اسے نیٹ ورک اور انفراسٹرکچر کی بہتری سے مشروط کیا جائے۔
مزید پڑھیں‌:ڈاکوؤں نے شہباز شریف نامی شہری کو لوٹ لیا

یہ بھی پڑھیں