Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

پی ٹی آئی کا حکومت کے ساتھ مل کر اصلاحات کا فیصلہ

اسلام آباد (اوصاف نیوز)سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان، محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں جمہوری ڈائیلاگ کے لیے تیار ہیں، اور ہمیں ایک دوسرے کو معاف کر کے آگے بڑھنا چاہیے۔ ہم معاف کرتے ہیں، آئیں ایک دوسرے کو معاف کریں۔

اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے دو روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف سیاسی رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما، جنید اکبر نے کہا کہ “ہم نئی شروعات کرتے ہیں، مل کر بیٹھیں اور ہم اپنی اصلاح کریں، آپ اپنی اصلاح کریں۔”

چیئرمین پی ٹی آئی، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ “جب ایسے فیصلے ہوں گے جیسے آج ہوا ہے، تو عوام میں مایوسی پھیلے گی۔” ان کا اشارہ حالیہ سیاسی حالات اور فیصلوں کی جانب تھا جنہوں نے عوام میں اضطراب پیدا کیا ہے۔

سینئر وکیل اور سیاستدان، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ “آج توشہ خانہ ٹو کے فیصلے کی توقع نہیں تھی، ہم اقتدار کی نہیں بلکہ اصولوں کی جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی صورت حال میں اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

سینئر سیاستدان، جاوید ہاشمی نے کہا کہ وہ ٹکراؤ کی سیاست کے حامی نہیں ہیں اور ہمیشہ مکالمے کی طرف راغب کرتے ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ “بات آگے نہیں بڑھتی۔”

اس موقع پر جماعت اسلامی کے نائب امیر، لیاقت بلوچ نے کہا کہ “ہمیں پُرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے آگے بڑھنا ہوگا”۔ ان کا یہ بیان اپوزیشن کی سیاسی حکمت عملی کو واضح کرتا ہے کہ وہ تشدد کے بجائے مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔

محمود خان اچکزئی نے اس موقع پر ایک بار پھر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے جمہوری ڈائیلاگ کے لیے آمادگی کا اظہار کیا اور کہا کہ “ہم سب کو مل کر سیاسی اصلاحات کی جانب قدم بڑھانا چاہیے، تاکہ ملک میں استحکام اور جمہوریت کا راستہ ہموار ہو۔”
مزید پڑھیں:مولانا فضل الرحمن کی لاہور آمد مختصر قیام کے بعد کراچی روانہ

یہ بھی پڑھیں