Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

عمران خان کو کسی اور جیل میں منتقل کر دیا جانا چاہیے،فیصل کریم کنڈی

اسلام آباد (اوصاف نیوز)سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ ہم کسی تضاد کا شکار نہیں بلکہ ملک کو بحران سے نکالنے کا راستہ چاہتے ہیں۔ موجودہ الیکشن کمیشن پر قوم کا اعتماد ختم ہو چکا ہے اور مذاکرات کا مطلب فارم 47 کی حکومت کو تسلیم کرنا نہیں۔ ہم حکومت نہیں بلکہ نظام کی اصلاح کی بات کر رہے ہیں اور ملک کو بند گلی کے بجائے پرامن حل کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔

اے بی این نیوز کے پروگرام سوال؟ سے آگے میں گفتگو کرتے ہوئے محمد زبیر نے کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی بہتری ممکن نہیں۔ اگر حکومت کی جانب سے مثبت جواب نہ آیا تو احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیڑھ سو سے زائد ٹیکسٹائل ملز بند ہو چکی ہیں، جس کے باعث لاکھوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اور معاشی بحران کا حل صرف مذاکرات میں ہی نظر آتا ہے۔

مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے خود اپنے لیے کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ پی ٹی آئی کے لیے راستے بند کیے گئے ہیں۔ اگر کوئی گروہ افراتفری اور انارکی پھیلانے کی کوشش کرے گا تو کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی گروہ اسلام آباد پر قبضہ نہیں کر سکتا، یہ ملک اور قوم کے مفاد میں نہیں۔

انہوں‌نے کہا کہ نواز شریف مذاکرات کے خلاف نہیں مگر انہیں عمران خان پر اعتماد نہیں۔ عمران خان کا پیغام جو علیمہ خانم نے میڈیا کو بتایا، وہ درست ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 9 مئی کو مکمل تصادم اور سازش کی گئی جبکہ 26 نومبر کو بھی ایک منصوبہ تیار کیا جا چکا تھا۔ ملاقاتیں بند ہونے سے 26 نومبر کا معاملہ مؤخر ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پاس مذاکرات کا کوئی مینڈیٹ نہیں اور عمران خان کی پالیسی ابتدا سے ہی تصادم کی رہی ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ عمران خان کو کسی اور جیل میں منتقل کر دیا جانا چاہیے کیونکہ اسلام آباد اور راولپنڈی کا بار بار بند ہونا ملکی تشخص کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ سفارتی وفود کے لیے سیکیورٹی لاک ڈاؤن منفی پیغام دیتا ہے۔ پنجاب میں متعدد جیلیں موجود ہیں، متبادل انتظام ممکن ہے، صرف مقام تبدیل کیا جائے جبکہ ملاقاتوں کا حق برقرار رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا سیکرٹریٹ عملی طور پر اڈیالہ منتقل ہو چکا ہے اور وزراء کا وہاں جانا صوبائی ترجیحات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ پشاور میں بیٹھ کر فیصلے کرنا وقت کی ضرورت ہے اور وہ مرکز اور صوبے کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔

گورنر کے پی نے زور دیا کہ گالم گلوچ کے بجائے سنجیدہ مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں۔ اپوزیشن اور حکومت کو مل کر صوبے اور ملک کے مسائل حل کرنا ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کی رہائی عدالتوں سے ہوگی، احتجاج سے نہیں، اور ایک فرد کے لیے پورے ملک کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔
مزید پڑھیں‌:اعتماد قائم نہ ہو اور راستے بند کیے جائیں تو لوگ نئے راستے خود بناتے ہیں، فیصل چودھری

یہ بھی پڑھیں