Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

یونیورسٹی آف لاہور میں طالب علم محمد اویس کا مبینہ خودکشی کا واقعہ، اہم پیشرفت

(اوصاف نیوز)یونیورسٹی آف لاہور میں طالب علم محمد اویس کی مبینہ خودکشی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جس کے بعد تعلیمی حلقوں اور سوشل میڈیا پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ واقعے کی مبینہ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے جس میں طالب علم کو یونیورسٹی کی عمارت کی تیسری منزل سے چھلانگ لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق محمد اویس یونیورسٹی آف لاہور کا طالب علم تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق واقعہ اچانک پیش آیا، جس کے فوراً بعد ریسکیو ٹیموں کو طلب کیا گیا، تاہم طالب علم جانبر نہ ہو سکا۔ لاش کو قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

مرحوم کے بھائی صہیب سلطان نے الزام عائد کیا ہے کہ محمد اویس کو بعض اساتذہ کی جانب سے مسلسل ذہنی دباؤ اور ٹارچر کا سامنا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اساتذہ کی طرف سے حاضری کم ہونے کی بنیاد پر امتحان میں نہ بیٹھنے دینے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں، جس کے باعث ان کا بھائی شدید ذہنی دباؤ میں تھا۔ صہیب سلطان نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور ادارہ مرحوم کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کا شریک ہے۔ انتظامیہ کے مطابق معاملے کی مکمل تحقیقات کے لیے اندرونی انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے اور تمام حقائق سامنے لائے جائیں گے۔ یونیورسٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ طلبہ کی فلاح و بہبود اور ذہنی صحت کے لیے موجود پالیسیوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے گا۔

پولیس حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ اہلِ خانہ اور متعلقہ افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حقائق کی روشنی میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔

واقعے کے بعد طلبہ تنظیموں اور سماجی حلقوں کی جانب سے تعلیمی اداروں میں طلبہ پر غیر ضروری دباؤ کے خاتمے اور مؤثر کاؤنسلنگ سسٹم کے قیام کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
مزید پڑھیں:ہالی ووڈ کے معروف اداکارہ ہیلن سف 88 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

یہ بھی پڑھیں