Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

ملک میں طویل المدتی اور مؤثر توانائی منصوبہ بندی کی جانب اہم پیش رفت

اسلام آباد(‌اوصاف نیوز)‌ملک میں توانائی کے شعبے میں طویل المدتی اور مؤثر منصوبہ بندی کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے انٹیگریٹڈ انرجی پلاننگ کے حوالے سے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی سطح پر توانائی سے متعلق تمام منصوبہ بندی کو یکجا کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

فیصلے کے مطابق اب وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی توانائی ضروریات، کھپت اور پیداوار کے حوالے سے مشترکہ اور مربوط منصوبہ بندی کی جائے گی۔ اس سے قبل توانائی سے متعلق مختلف وفاقی اور صوبائی ادارے الگ الگ منصوبہ بندی کرتے تھے جس کے باعث نظام غیر مربوط تھا۔

جامع انرجی پلاننگ کے لیے پاور ڈویژن کے ادارے PPMC میں ایک مستقل سیکرٹریٹ قائم کیا جائے گا، جبکہ ملک بھر میں توانائی منصوبہ بندی کی مکمل ذمہ داری پاور ڈویژن کو سونپ دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب توانائی سے متعلق پالیسی سازی ایک ادارے اور ایک ہی جگہ سے کی جائے گی، جس سے پالیسی ساز اداروں کو جامع اور مؤثر معاونت حاصل ہو گی۔

کابینہ کمیٹی کے مطابق اس اقدام سے پاور ڈویژن کو ملک میں توانائی کے تمام ذرائع بالخصوص گرین انرجی کے فروغ میں بہتر کردار ادا کرنے میں سہولت ملے گی۔

دوسری جانب کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے بجلی کے ویلنگ سے متعلق بھی ایک اہم اور تاریخی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد ملک میں آزاد انرجی مارکیٹ کے قیام اور فروغ کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ فیصلے کے تحت مسابقتی عمل، شرکت اور دیگر امور کی منظوری دے دی گئی ہے، جبکہ بجلی کے آکشن سے متعلق طریقہ کار CTBCM کو بھی منظور کر لیا گیا ہے۔

حکومتی پالیسی کے مطابق اب نئے بجلی معاہدے نہیں کیے جائیں گے اور حکومت بجلی کی براہِ راست خریداری سے نکل جائے گی۔ اس فیصلے کے بعد 800 میگاواٹ بجلی کے لیے مسابقتی بولی کا عمل شروع کیا جائے گا، جسے شفاف بنانے کے لیے تمام متعلقہ اقدامات مکمل کیے گئے ہیں۔

پاور ڈویژن کے ذیلی ادارے ISMO کو بجلی کے آکشن کے عمل کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کار اس مسابقتی عمل میں حصہ لے سکیں۔
مزید پڑھیں‌:حسن احمد کے گھر کرسمس کیسے منائی جاتی ہے؟ اداکار نے بتایا

یہ بھی پڑھیں