اسلام آباد( اے بی این نیوز)رہنما پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی ) سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم پر فیصلے اجتماعی مشاورت سے ہوں گے، عمران خان واضح کر چکے ہیں کہ مشترکہ اتحاد میں فیصلے قیادت کی مشاورت سے ہوں گے، ان کا کہنا تھا کہ ہماراموقف ہےمحمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس جو فیصلہ کریں گے اسی پر چلیں گے اورتحریک انصاف بطور جماعت مشترکہ پلیٹ فارم کے فیصلوں کی پابند ہوگی.
اے بی این نیوزکےپروگرام’’ڈیبیٹ@8‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹرہمایوں مہمندنے کہا کہ مشترکہ اتحاد اور انفرادی جماعتی مؤقف میں واضح فرق رکھا جائے گاجو کہ اتحاد کی کامیابی کیلئے نظم و ضبط اور مشترکہ فیصلوں کا احترام ضروری ہے.
دوسری جانب رہنما مسلم لیگ ن سینیٹر ناصر بٹ نے کہا کہ وزیراعظم نے خود اسمبلی میں جا کر اپوزیشن کو بات چیت کی دعوت دی کہ حکومت مذاکرات کیلئے تیار ہے مگر غیر قانونی اقدامات کی اجازت نہیں دی جا سکتی، انہوںنے کہا کہ سڑکیں بند کرنا، غیر متعلقہ مقامات پر جانا اور انتشار پھیلانا نہ احتجاج ہے نہ سیاست حکومت سیاسی استحکام چاہتی ہے اور جائز مطالبات پر بات کیلئے آمادہ ہے،انتخابات سمیت تمام آئینی اور قانونی مطالبات پر مذاکرات ہو سکتے ہیں عدالتی فیصلے عدالتوں میں ہی چیلنج ہوں گے، حکومت مداخلت نہیں کرے گی.
لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ احتجاج اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے، واضح راستہ اختیار کرنا ہوگا سیاسی مسائل کا حل بات چیت اور آئینی عمل میں ہے، انتشار میں نہیں حکومت کا مؤقف ہے کہ قانون کی بالادستی اور سیاسی استحکام اولین ترجیح ہیں ان کا کہنا تھا کہ تحریک تحفظ آئین کے اراکین کے درمیان مظاہروں اور مذاکرات بارے واضح رائے نہیں کچھ اراکین احتجاج کی تیاری کر رہے ہیں، بعض حکومت سے بات چیت کے حامی ہیں.
سینیٹرناصربٹ نے کہا کہ حکومت نے کمیٹی بنانے کی پیشکش کی تاکہ بات چیت منظم انداز میں ہو سکےمگر پی ٹی آئی رہنماؤں میں داخلی اعتماد اور حکمت عملی کے حوالے سے اختلافات ہیں.
ادھررہنما جمعیت علمائے اسلام (ف)سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ملک میں زبردستی مسلط حکومتوں کیخلاف مشترکہ جدوجہد کی بات کی جا رہی ہے اور 26ویں آئینی ترمیم کے بعد مختلف جماعتوں کے راستے جدا نظر آتے ہیں ترمیم سے قبل رابطے اور ہم آہنگی موجود تھی مگر بعد میں اعتماد کا فقدان بڑھا پارٹیوں کے درمیان عدم اعتماد کی فضا اب بھی برقرار ہے، اسد قیصر، مولانا اور دیگر رہنماؤں کے درمیان رابطے موجود ہیں اور پارٹی ورکرز کی سطح پر بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، تحریک کی کامیابی کے لیے دو بنیادی نکات اہم قرار دیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک آزاد اور منصفانہ الیکشن کمیشن کا قیام ناگزیر ہے اور انتخابات میں مداخلت کے خاتمے اور غیر جانبداری پر زور دیا گیا ہے، عوامی مینڈیٹ کے مطابق نظام چلائے بغیر ترقی ممکن نہیں، ملک کو آگے بڑھانے کیلئے شفاف انتخابات اور عوامی نمائندگی ضروری قرار دی گئی جبکہ کمیٹی کی تشکیل اور مختلف رہنماؤں کی شمولیت پر بھی غور جاری ہے۔
مزید پڑھیں:چین میں ڈرون قوانین کا نیا دور، یکم جولائی سے تمام اداروں کے لیے سخت قواعد نافذ




