اسلام آباد( اے بی این نیوز) کوآرڈینیٹر وزیراعظم اختیار ولی خان نے کہا کہ اگر یہ سٹنٹ بازی نہ مارتے کوصورت حال کچھ اور ہونی تھی آج اس دورے کاکہیں نام بھی نہ ہوتا تو ہم نےطے کیا تھا کہ جیسے ہی یہ پنجاب میں داخل ہونگے ان کوپروٹوکول دیں گے، سرکاری حصار میں لاہور تک پہنچا نااور ان کو پنجاب اسمبلی میں لے جانا تھا،ان کے کھانے کا اہتمام کیا گیااوران کی پارٹی کے جو پارلیمنٹیرین ہیں انکی ملاقات سہیل آفریدی کے ساتھ کرانا تھی ۔
اے بی این نیوز کے پروگرام سوال سے آگے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لیکن جب یہ وہاں پہنچے اور ایسی حرکتیں نہیں کرتے تو کیسے پتا چلنا تھاکہ تحریک انصاف والے آئے ہیں ، سہیل آفریدی کو اب یہ پتا ہے کہ وہ وزیراعلیٰ تو بن گئے ہیں، لیکن یہ نہیں پتا وزیراعلیٰ کس طرح ادب وآداب رکھتاہے وہ سیکھنا پڑینگے، یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ انہوں نے کہا ں کہاں جانا ہے، جو ایجنڈا ہمیں شیئر کیا اس میں ایسا کچھ تھا ہی نہیں ۔
اختیار ولی خان نے کہا کہ یہ خط وزیراعلیٰ پنجاب کو لکھ رہے ہیں آج سپیکر خیبر پختونخواجو خط سپیکر پنجاب کو لکھ رہے ہیں تو یہ اپنا پروگرام شیئر کرتے تو سب اچھا ہوتا لیکن آپ کو تو یہ چاہیے ہی نہیں تھا پی ٹی آئی کی کسی بھی دن کی سرگرمی دیکھ لیں جب تک کوئی واقع نہیں ہوگا تواس موضع پر بات چیت ہوگی نہیں انہوں نے کہا کہ میرے ٹویٹ پر آپ جا کر پڑھ لیں جو مریم نواز نے مینار پاکستان میں جلسہ کیا ہے اس کا ریکارڈ چیک کر لیں وہاں پر عمران خان نے اس سے پہلے دو جلسے کیے ہیں ہمارے برابر آدھے بندے اکھٹے نہیں کر سکتے تھے وہ ریکارڈ توڑ لیں پھر مینار پاکستان چلے جانابلکہ مینار پاکستان میں حافظ نعیم الرحمان نے بھی کیا ہے ۔
دوسری جانب ،معاون خصوصی برائے اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے کہا کہ ہمارے پاس ایک لسٹ موجود ہے جس میں 13 لوگوں کے نام ہیں جن میں 9 لوگوں کو اجازت دی گئی اور4 لوگوں کو نہیں وہ لسٹ ہمارے پاس ہے جہاں تک ملک احمد خان وہ سپیکرپنجاب اسمبلی ہیں ان کی جائیداد نہیں وہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بن رہے ہیں ہمیں پتہ ہے وہ شریف فیملی کے ذاتی ملازم ہیں اس چیز کا ثبوت دے رہے ہیں بلکہ ہم نے تو لسٹ ان کو دی تھی ہمیں پنجاب اسمبلی سے دور ناکے پے گاڑیوں سے اتارا ہم پیدل چل کے گئے صرف وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو اندر تک جانےاجازت تھی ۔
انہوں نے کہا ہماری مین گیٹ اوراسمبلی کے دروازے پر بھی لیسٹ تھی وہاں پر چیکنگ کی گئی جبکہ ان کے اتنے چیکنگ پوائنٹ تھے یہ لوگ کیسے ان کے ساتھ گھسےاور سیاسی کارکن کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ان کےساتھ بیٹھے بات کرے تصویریں لیں جب یہ سیاسی کارکنان کی کوشش ہوتی ہے اور وہ اندر گئے تو انہوں نے یہ سب کچھ خود ہی صورتحال پیدا کی ۔
مزید پڑھیں:سابق وزیراعظم کی نماز جنازہ اور تدفین کا اعلان




