(اوصاف نیوز)طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان میں خواتین کو درپیش صنفی امتیاز کے خلاف افغان خواتین نے عالمی سطح پر آواز بلند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق خواتین کی ایک مشاورتی اور ایڈووکیسی تنظیم نے آٹھ ہفتوں پر مشتمل بین الاقوامی مہم “اب صنفی امتیاز ختم کریں” کا آغاز کر دیا ہے۔
اس مہم کا مقصد عالمی برادری کی توجہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کو درپیش سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانب مبذول کرانا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کے تحت خواتین کو عوامی زندگی سے مکمل طور پر خارج کر دیا گیا ہے۔
لڑکیوں کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے، جس سے ایک پوری نسل کے مستقبل کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ برطانوی رکنِ پارلیمنٹ ایلس میکڈونلڈ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ افغان خواتین اور لڑکیاں اس وقت ایک تباہ کن صورتحال کا سامنا کر رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے مطابق افغانستان میں اب بھی تقریباً 22 لاکھ لڑکیاں اسکول جانے سے محروم ہیں۔ یو این ویمن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہر دس میں سے آٹھ لڑکیاں تعلیم، تربیت اور روزگار کے حق سے محروم ہیں۔
رپورٹس کے مطابق طالبان کے زیرِ اقتدار علاقوں میں خواتین کو سرعام کوڑے مارنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مزید پڑھیں:حملہ کیا تو اسرائیلی اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے، ایران کی امریکا کو دھمکی


