(اوصاف نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا طاقتور آپشنز پر غور کر رہا ہے جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق ایران امریکی ریڈ لائن عبور کر رہا ہے اور اس حوالے سے معاملہ فوج کے پاس ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران سے متعلق صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ ملک میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے باعث مختلف آپشنز زیرِ غور ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران میں انٹرنیٹ بحال کرا سکتا ہے اور اس معاملے پر ایلون مسک سے بات کی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کے حوالے سے بھی بیان دیتے ہوئے کہا کہ اسے امریکا کے ساتھ ڈیل کر لینی چاہیے اور امریکا گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی بات کر رہا ہے۔ انہوں نے وینزویلا سے متعلق کہا کہ وہاں کی قیادت کے ساتھ معاملات مثبت سمت میں جا رہے ہیں اور اچھا نتیجہ نکلے گا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق منگل یا بدھ کو وینزویلا کی رہنما ماریا کورینا سے ملاقات متوقع ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا ایران کے عوام کی مدد کے لیے تیار ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹرتھ سوشل‘‘ پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے، جو ماضی میں کبھی نہیں ہوا۔
گزشتہ روز بھی صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران میں عوام کو قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا، تاہم انہوں نے یہ وضاحت کی تھی کہ اس مداخلت کا مطلب ایران میں فوج اتارنا نہیں ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ بعض شہروں میں عوام نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت نے برسوں اپنے عوام کے ساتھ برا سلوک کیا اور اب اسے اس کے نتائج کا سامنا ہے۔
دوسری جانب ایران میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ امریکی جریدے ٹائم میگزین کے مطابق مہنگائی کے خلاف جاری پرتشدد مظاہروں کے دوران کئی شہروں میں توڑ پھوڑ کی گئی، مساجد اور ہسپتالوں کو نقصان پہنچا جبکہ اب تک 217 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں:سابق وائس چانسلر بی زیڈ یو ڈاکٹر ملک محمد افضل چن انتقال کر گئے


