Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

قدرتی وسائل سے خوشحالی، پاکستان خود کو بدلنے جا رہا ہے

اسلام آباد (اوصاف نیوز) پاکستان اپنے کھربوں ڈالر مالیت کے غیر استعمال شدہ معدنی وسائل کو اسٹریٹجک معاشی ترقی کی بنیاد بنانے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ معروف عالمی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ میں شائع ہونے والے ایک تفصیلی مضمون میں پاکستان کے معدنی شعبے میں جاری اصلاحات، سرمایہ کاری کے نئے مواقع اور عالمی معیار سے ہم آہنگ پالیسیوں کا بھرپور جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاس کھربوں ڈالر مالیت کے معدنی ذخائر موجود ہیں جن میں کاپر، گولڈ، لیتھیم، کوبالٹ، نایاب زمینی عناصر اور قیمتی پتھر شامل ہیں۔ حکومت پاکستان ان وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے لیے مائننگ پالیسیوں میں اصلاحات کر رہی ہے تاکہ انہیں عالمی معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔ شفافیت، قانون سازی، سرمایہ کار دوست ماحول اور بین الاقوامی شراکت داری کو اس حکمتِ عملی کا مرکزی ستون قرار دیا گیا ہے۔

دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق پاکستان کو اہم معدنیات کا اسٹریٹجک مرکز بنانے کے لیے شفاف طریقۂ کار اور عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اسی مقصد کے تحت پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 (PMIF26) کا انعقاد اپریل میں کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد پاکستان کو ایک سرمایہ کاری کے لیے تیار مائننگ معیشت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔

رپورٹ میں ریکوڈک منصوبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے جو دنیا کے بڑے کاپر اور گولڈ منصوبوں میں شامل ہے۔ یہاں تقریباً 5.9 ارب ٹن معدنی ذخائر موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ اربوں ڈالر کی آمدن اور ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، جس سے پاکستان کی معیشت کو طویل المدتی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

قیمتی پتھروں کے حوالے سے بھی پاکستان کو بڑی صلاحیت کا حامل ملک قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے قیمتی پتھروں کی مجموعی مالیت تقریباً 450 ارب ڈالر ہے، مگر اس وقت ان کی سالانہ برآمدات صرف 5.8 ملین ڈالر ہیں، جو اس شعبے میں موجود بڑے پوٹینشل کی واضح نشاندہی کرتی ہیں۔ اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے حکومت نے پہلی قومی جیم اسٹون پالیسی متعارف کرا دی ہے۔

نئی جیم اسٹون پالیسی کے تحت جدید سرٹیفیکیشن سسٹم، ویلیو ایڈیشن، مقامی صنعت کی ترقی اور نوجوانوں کی کاروباری شمولیت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ حکومت نے آئندہ پانچ سال میں جیم اسٹون برآمدات کو بڑھا کر 1 بلین ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جو ملکی برآمدات میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔

دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق پاکستان لیتھیم، کوبالٹ اور نایاب زمینی عناصر کے شعبے میں بھی عالمی سپلائی چین کا حصہ بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، خاص طور پر جب دنیا گرین انرجی اور الیکٹرک وہیکلز کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ معدنی اصلاحات سے نہ صرف سرمایہ کاری بڑھے گی بلکہ ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور صنعتی ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر معدنی اور جیم اسٹون سیکٹر میں مجوزہ اصلاحات پر مکمل عمل درآمد کیا گیا تو آئندہ 10 سال میں سالانہ 5 سے 7 بلین ڈالر تک جی ڈی پی میں اضافہ ممکن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہزاروں براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے غربت میں کمی اور معاشی استحکام میں مدد ملے گی۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان اب خود کو عالمی معدنی منڈی میں ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ شفاف پالیسیوں، بین الاقوامی تعاون اور سرمایہ کار دوست ماحول کے ذریعے پاکستان اپنے قدرتی وسائل کو قومی ترقی اور عوامی خوشحالی کے لیے بروئے کار لانے کی راہ پر گامزن ہے۔
مزید پڑھیں:اپوزیشن لیڈرکی تقرری:حکومت اور پی ٹی آئی میں اتفاق ہوگیا

یہ بھی پڑھیں