Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

پینٹا گون نے امریکی صدر کو ایران کیخلاف کارروائی کرنے کا حکم دیدیا، مختلف آپشنز پر غور شروع

اسلام آباد (اوصاف نیوز) پینٹاگون نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق مختلف آپشنز پیش کر دیے ہیں، جس کے بعد خطے میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق پینٹاگون کی جانب سے صدر ٹرمپ کو دی گئی بریفنگ میں ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل تنصیبات، سائبر نظام اور اندرونی سیکیورٹی ڈھانچے کو ممکنہ اہداف کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ آپشنز مختلف سطح کے حملوں پر مشتمل ہیں، جن میں محدود کارروائی سے لے کر بڑے پیمانے کی فوجی مداخلت تک کے منصوبے شامل ہیں۔

امریکی فوجی کمانڈرز نے صدر کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی قسم کے حملے سے قبل خطے میں امریکی فوجی پوزیشنز کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہوگا۔ کمانڈرز کا کہنا ہے کہ ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کے پیش نظر دفاعی حکمتِ عملی کو مکمل کرنے اور اتحادی ممالک کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے وقت درکار ہوگا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کو دی گئی بریفنگ میں تہران میں بعض غیر فوجی اہداف اور سیکیورٹی نظام کو نشانہ بنانے کے آپشنز بھی شامل ہیں۔ امریکی حکام مختلف منظرناموں پر غور کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ کارروائی کے نتائج اور ردعمل کا اندازہ لگایا جا سکے۔

دوسری جانب ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے ایران کے ممکنہ جوابی حملوں کا ہدف ہوں گے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق ممکنہ امریکی مداخلت کے خدشے کے پیش نظر اسرائیل کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور سیکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ فوج اور دفاعی ادارے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ جرمنی سے امریکی فضائیہ کے دو سی 17 اے طیارے مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں، جس سے ایران پر ممکنہ امریکی حملے سے متعلق قیاس آرائیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ نقل و حرکت خطے میں کسی بڑی پیش رفت کا عندیہ ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر اس صورتحال پر تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ کسی بھی فوجی کارروائی سے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے اور عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:شاداب خان کا بڑا اعلان، بگ بیش لیگ کے باقی15میچز نہیں کھیلیں گے

یہ بھی پڑھیں