Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

طالبان رجیم کی اعلیٰ قیادت کا دھڑےبندی کا شکار ہونے کا انکشاف

(اوصاف نیوز)طالبان رجیم کی اعلی قیادت میں دھڑے بندی پر بی بی سی نےتفصیلی رپورٹ جاری کردی۔

بی بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شیخ ہیبت اللہ کا وفادار دھڑا افغانستان کو سخت گیر اسلامی امارت کے تصور کی طرف دھکیل رہا ہے – ہیبت اللہ ایک ایسی سخت گیر ریاست کے حامی ہیں جہاں ان کے وفادار علماء کی زندگی کے ہر شعبے پر مکمل گرفت ہو – ہیبت اللہ قندھار میں مقیم ہے اور سخت گیر نظریاتی شخصیات کے محدود حلقے میں فیصلہ سازی کرتے ہیں۔

بی بی سی نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ ہیبت اللہ اندرونی اختلافات سے خوف محسوس کرتے ہیں۔ ناقدین کو سزاؤں اور برطرفیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔شیخ ہیبت اللہ کی شدت پسند سوچ کا اندازہ 2017 میں اپنے ہی بیٹے کو خودکش حملے کی اجازت دینے سے ہوتا ہے ۔ طالبان رجیم احکامات قندھار سے جاری ہوتے ہیں، کابل کے وزراء عملدرآمد کے پابند ہیں ۔اکثر وزراء کو ہیبت اللہ سے ملاقات کے لیے دنوں یا ہفتوں انتظار کرنا پڑتا ہے ۔اہم محکمے، اسلحے کی تقسیم اور فیصلہ سازی بتدریج کابل سے قندھار منتقل کی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہیبت اللہ اپنی وفادار سیکیورٹی فورسز کی تشکیل کر رہے ہیں ۔ ہیبت اللہ اکثر کابل حکومت کو نظر انداز کر کے جونیئر سرکاری فسران کو براہ راست احکامات بھی دیتے ہیں ۔شیخ ہیبت اللہ کے احکامات پر لڑکیوں کی تعلیم اور عورتوں کی عوامی زندگی میں شمولیت پر پابندیاں عائد کی گئیں ۔خواتین کے پارکوں، بیوٹی سیلونز، بغیر محرم سفر حتی کہ اونچی آواز پر بات کرنے پر بھی پابندی عائد ہے۔

دوسری جانب کابلی دھڑے کی قیادت عبدالغنی برادر، ملا یعقوب اور سراج الدین حقانی کر رہے ہیں۔کابلی دھڑا شیخ ہیبت اللہ کی سخت گیر پالیسیوں سے ناخوش ہے ۔کابلی دھڑا ایسی پالیسیاں بنانے کا خواہ ہے جو بین الاقوامی برادری کو قبول ہوں۔
ستمبر 2025 میں شیخ ہیبت اللہ کے احکامات پر تمام افغانستان میں انٹرنیٹ کو بند کر دیا گیا ۔کابلی دھڑے نے شیخ ہیبت اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تین دن میں انٹرنیٹ بحال کر دیا ۔سراج الدین حقانی ایک مضبوط کمانڈر ہیں جنہوں نے متعدد مواقع پر شیخ ہیبت اللہ کی پالیسیوں پر کھلی تنقید کی ۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں کن علاقوں میں آج بجلی بند رہے گی؟

یہ بھی پڑھیں