اسلام آباد / پشاور (اوصاف نیوز) محکمہ صحت خیبرپختونخوا کا ورلڈ بینک کے تعاون سے شروع کیا گیا ہیومن کیپیٹل انوسٹمنٹ پراجیکٹ شدید مالی، انتظامی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے الزامات کی زد میں آ گیا ہے۔ 24 ارب روپے مالیت کے اس منصوبے میں مبینہ طور پر 16 ارب روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیاں سامنے آ گئی ہیں، جبکہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنے والے افسر کا کنٹریکٹ منسوخ کر دیا گیا۔
پی ٹی آئی کے نعرے “سڑکوں کے بجائے انسانوں پر سرمایہ کاری” کے تحت ورلڈ بینک بورڈ کی منظوری کے بعد یہ پراجیکٹ مارچ 2021 میں شروع کیا گیا۔ منصوبے میں پشاور، نوشہرہ، صوابی اور ہری پور شامل تھے، جس کا مقصد بنیادی صحت کی سہولیات کو بہتر بنانا تھا، تاہم آڈٹ رپورٹ نے منصوبے کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق 2022 کے سیلاب میں متاثر ہونے والی 158 عمارتوں میں سے 59 کے ٹھیکے قواعد کے برخلاف صرف دو من پسند کمپنیوں کو دیے گئے، حالانکہ قوانین کے مطابق ایک کمپنی کو ایک سے زائد ٹھیکہ نہیں دیا جا سکتا۔ زائد نرخوں پر تعمیر و مرمت سے 7.8 ارب روپے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا۔
آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی، جو منصوبے کے دائرہ اختیار میں شامل ہی نہیں تھی، اس کے لیے بغیر کسی بولی کے ادویات اور دیگر اشیاء کی خریداری پر ایک ارب روپے خرچ کیے گئے۔ ہسپتالوں کے فرنیچر، طبی آلات اور سولر سسٹمز اوپن مارکیٹ سے دس گنا زائد قیمت پر خریدے گئے، جس سے دو ارب روپے کا نقصان ہوا۔
رپورٹ کے مطابق 78 لاکھ روپے کی او پی ڈی رسیدوں کا کوئی ریکارڈ فراہم نہیں کیا جا سکا، جبکہ جعلی طریقہ کار کے ذریعے من پسند کمپنی کو ہائر کر کے 20 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔ کم از کم اجرت سے بھی کم تنخواہوں پر 700 بھوت ملازمین بھرتی کیے گئے، جن کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں، اور اس مد میں 51 کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں۔
آڈٹ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہسپتالوں کی کسی طلب کے بغیر 57 کروڑ روپے سے زائد کی ادویات خریدی گئیں، جن کے استعمال یا موجودگی کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ ان ادویات کو محفوظ رکھنے کے لیے نہ اسٹوریج تھا اور نہ مناسب انتظام، جس کے باعث گرلز ہاسٹل اور حتیٰ کہ پارکنگ ایریاز کو بھی اسٹور کے طور پر استعمال کیا گیا۔
فیول اور دیگر اخراجات کی مد میں تین کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں، بعض افسران کو کروڑوں روپے کے اضافی الاؤنسز دیے گئے، جبکہ کنسلٹنٹ کمپنیوں اور افراد سے سیلز ٹیکس کی کٹوتی نہ کرنے اور خلاف ضابطہ بھرتیوں سے بھی قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔
انتہائی تشویشناک پہلو یہ ہے کہ آڈٹ اور مانیٹرنگ رپورٹ پر عملدرآمد کے بجائے مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن ایکسپرٹ کو عہدے سے ہٹا کر بغیر کسی نوٹس کے معاہدہ منسوخ کر دیا گیا، جبکہ رپورٹ میں ذمہ دار ٹھہرائے گئے افسران کے خلاف تاحال کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔
مزید پڑھیں:خیبر پختونخوا حکومت اور اپوزیشن دونوں ’یوم سیاہ ‘منا رہی ہیں، فواد چودھری


