Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

ازبکستان کی عالمی تجارت کا نیا راستہ،پاکستانی بندرگاہیں اسٹریٹجک گیٹ وے کے طور پر ابھریں

تاشقند/اسلام آباد (اوصاف نیوز)بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور عالمی نقل و حمل و لاجسٹکس میں مسلسل رکاوٹوں کے باعث ازبکستان نے اپنی بیرونی تجارت کے لیے تیزی سے پاکستانی بندرگاہوں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے، جو اب خطے میں ایک اسٹریٹجک گیٹ وے کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔

دوہری خشکی سے گھرے ملک ازبکستان کو سمندر تک رسائی کے لیے کم از کم دو ممالک سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کی بندرگاہیں کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر ازبکستان کے لیے جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا پیسیفک خطے کی عالمی منڈیوں تک کم ترین فاصلے اور کم لاگت کے ساتھ رسائی فراہم کر رہی ہیں، جس سے ان کی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اہم علاقائی کنیکٹیویٹی منصوبے، جن میں ازبکستان-افغانستان-پاکستان (یو اے پی) ریلوے منصوبہ اور وسطی ایشیا کو پاکستان سے جوڑنے والا کثیر ماڈل ٹرانسپورٹ کوریڈور شامل ہیں، تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافے کا باعث بنے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق 2025 کے اختتام تک یو اے پی کوریڈور کے ذریعے کارگو کی نقل و حرکت 4 لاکھ ٹن سے تجاوز کر گئی، جو دو طرفہ اور ٹرانزٹ تجارت میں مسلسل اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستانی بندرگاہوں کے استعمال سے ٹرانزٹ ٹائم میں 10 سے 15 دن کی بچت جبکہ لاجسٹکس اخراجات میں 20 سے 30 فیصد تک کمی ممکن ہے، جس سے ازبک برآمد کنندگان کو عالمی منڈی میں نمایاں مسابقتی برتری حاصل ہو رہی ہے۔

اگرچہ علاقائی سرحدوں کی بندش کے باعث بعض اوقات عارضی رکاوٹوں کا سامنا رہتا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا جدید بندرگاہی انفراسٹرکچر ازبکستان کی طویل المدتی تجارتی اور نقل و حمل حکمتِ عملی میں کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔

ماہرین کے مطابق پاکستانی بندرگاہوں پر ازبکستان کا بڑھتا ہوا انحصار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ بندرگاہیں محض ٹرانزٹ پوائنٹس نہیں رہیں بلکہ اب ازبکستان کی بڑھتی ہوئی غیر ملکی تجارت کے لیے ایک اسٹریٹجک لاجسٹک بیس کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔
مزید پڑھیں‌:رمضان سے قبل بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

یہ بھی پڑھیں