Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کی بڑی کامیابی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بڑی سفارتی اور قانونی کامیابی حاصل کر لی ہے جسے بھارت نے پہلگام آبشار آپریشن کے بعد یکطرفہ طور پر معطل کر دیا تھا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ثالثی عدالت کی طرف سے جاری کردہ پروسیجرل آرڈر نمبر 19 نے پاکستان کے موقف کی واضح طور پر تائید کی ہے۔ ثالثی عدالت نے نہ صرف اپنا قانونی اختیار برقرار رکھا ہے بلکہ پاکستان کی جانب سے پیش کردہ شواہد کو آگے بڑھاتے ہوئے تعمیل کی ذمہ داری براہ راست بھارت پر عائد کی ہے۔

ثالثی ٹربیونل نے واضح طور پر کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت ثالثی کا عمل مکمل طور پر چل رہا ہے اور کسی بھی فریق کی عدم شرکت کارروائی کو نہیں روک سکتی۔ عدالت نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ سیاسی بیانات یا یکطرفہ اعلانات معاہدے کے طریقہ کار کو معطل نہیں کر سکتے۔ عدالتی حکم میں کہا گیا کہ تعمیل کا تعین زمینی اور عملی حقائق کی بنیاد پر کیا جائے گا نہ کہ مبالغہ آمیز یا فرضی منصوبہ بندی پر۔ عدالت نے باضابطہ طور پر کارروائی میں طے شدہ ٹائم لائنز کا جواب دینے میں ہندوستان کی ناکامی کو ریکارڈ کا حصہ بنایا ہے۔

ایک اہم پیش رفت میں، عدالت نے ہدایت کی ہے کہ بھارت اپنی آپریشنل لاگ بک اور متعلقہ ریکارڈ مقررہ وقت کے اندر جمع کرے اور واضح کیا کہ عدم تعاون سندھ طاس معاہدے کے تحت کسی بھی فریق کی ذمہ داریوں کو کمزور نہیں کرتا۔ عدالت نے شفافیت کو لازمی قرار دیتے ہوئے تمام مطلوبہ ریکارڈ ٹریبونل کے سامنے رکھنے کا حکم دیا۔ اگر ہندوستان ثالثی ٹربیونل کے حکم کے مطابق ریکارڈ فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اس کے خلاف منفی قانونی نتائج نکالے جا سکتے ہیں۔

ثالثی ٹریبونل نے مزید واضح کیا کہ عدم تعاون کے باوجود ثبوت عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنیں گے اور رازداری کو معاہدے کے فیصلوں میں رکاوٹ بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ سندھ طاس معاہدے کے حقوق اور ذمہ داریوں پر کوئی طریقہ کار یا تکنیکی تحفظات مقدم نہیں ہیں۔ ثالثی ٹریبونل نے عبوری ریلیف کے معاملے میں اپنے واحد اور خصوصی اختیار کی بھی توثیق کی اور اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان کو کسی ممکنہ نقصان یا تناؤ کو روکنے کے لیے معاہدے کے تحت فوری ریلیف حاصل کرنے کا پورا حق ہے۔

ثالثی ٹربیونل کے فیصلے سے پاکستان کی قانونی ساکھ مزید مستحکم ہوئی ہے جبکہ بھارت کی عدم تعمیل اور عدم تعاون عالمی سطح پر الگ تھلگ دکھائی دے رہا ہے۔ ٹریبونل کے مطابق پاکستان کی معاہدے پر مبنی حکمت عملی نے سندھ طاس معاہدے کے استحکام کو یقینی بنایا ہے۔
مزید پڑھیں‌:ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

یہ بھی پڑھیں