(اوصا ف نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ امریکا نے بھارتی مصنوعات پر عائد ٹیرِف 25 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکا اور بھارت کے درمیان طے پانے والے ایک وسیع دوطرفہ تجارتی معاہدے کے تحت کیا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اس معاہدے کے تحت بھارت نے روس سے تیل کی خریداری کم یا ختم کرنے کا عہد کیا ہے، جبکہ اس کے بدلے امریکا سے بڑے پیمانے پر اشیاء خریدنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان کئی ماہ تک جاری رہنے والے سخت اور کشیدہ مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے، جن کے دوران واشنگٹن کی جانب سے نئی دہلی پر معاشی دباؤ ڈالا گیا تھا۔
نئے سمجھوتے کے تحت بھارتی مصنوعات پر مجموعی امریکی ٹیرِف، جو پہلے تقریباً 50 فیصد تک پہنچ چکا تھا (25 فیصد عمومی اور 25 فیصد روسی تیل سے متعلق اضافی ٹیکس)، کم ہو کر 18 فیصد رہ گیا ہے۔ روسی تیل کی خریداری ختم کرنا یا نمایاں طور پر کم کرنا اس معاہدے کی بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ بھارت نے امریکی درآمدات پر محصولات میں نرمی اور آئندہ برسوں میں امریکا سے تقریباً 500 ارب ڈالر مالیت کی اشیاء خریدنے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 18 فیصد ٹیرِف کی سطح ایشیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بھارت کے لیے نسبتاً بہتر ہے، تاہم بعض مبصرین کے نزدیک یہ رعایت بھارت کی توانائی پالیسی میں بڑی تبدیلی کے بدلے دی گئی، جسے وہ دباؤ کے تحت کیا گیا فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستان کی معروف اداکارہ ماہرہ خان کی ویڈیو وائرل ہو گئی


