(اوصا ف نیوز)بنگلہ دیش میں حالیہ انتخابات کے بعد منتخب ہونے والے اراکین نے حلف لے اٹھالیا ہے۔13ویں قومی پارلیمنٹ کے نومنتخب ارکان نے ڈھاکا میں موجود پارلیمنٹ ہاؤس میں حلف لیا جبکہ نئی کابینہ کی تقریبِ حلف برداری شام میں منعقد ہوگی۔
یہ پیش رفت عوامی لیگ کے 17 سالہ دورِ اقتدار کے خاتمے کے 18 ماہ بعد سامنے آئی ہے، جس کے بعد طویل عبوری انتظامیہ کے بعد ایک منتخب حکومت قائم ہو رہی ہے۔
طارق رحمان، جو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین اور پارلیمنٹ میں اکثریتی جماعت کے قائد ہیں، نئی حکومت کی قیادت کریں گے۔ ارکان کے حلف کے بعد اکثریتی جماعت اپنا پارلیمانی لیڈر منتخب کرے گی، جسے صدر آئینی تقاضوں کے مطابق حکومت بنانے کی دعوت دیں گے۔
مزید پڑھیں:ٹیلی نار نے بھی آفر متعارف کر ادی
اطلاعات تھیں کہ نومنتخب ارکان پارلیمانی حلف کے ساتھ مجوزہ آئینی اصلاحاتی کونسل کے رکن کی حیثیت سے بھی الگ حلف اٹھائیں گے، تاہم مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلاف کے باعث اس عمل پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ بی این پی کے سینیئر رہنما صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم اور قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد ہی ایسا ممکن ہوگا۔
بی این پی ذرائع کے مطابق نئی کابینہ میں تجربہ کار سیاستدانوں، نوجوان قیادت اور ٹیکنوکریٹس کا امتزاج شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ انتخابی وعدوں کی تکمیل، انتظامی اصلاحات میں تیزی اور نئی قیادت کو آگے لانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر سمیت کئی سینیئر رہنماؤں کو اہم ذمہ داریاں ملنے کی توقع ہے۔پارلیمنٹ ہاؤس کے اطراف سخت سیکیورٹی نافذ کردی گئی ہے۔ اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کنٹرول کیا جا رہا ہے جبکہ سی سی ٹی وی نگرانی سمیت دیگر حفاظتی اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
نئے وزیراعظم کی حلف برداری میں شرکت کے لیے متعدد عالمی رہنما ڈھاکا پہنچ گئے ہیں، جن میں مالدیپ کے صدر محمد معیزو، بھوٹان کے وزیرِ اعظم شیرنگ توبگے، بھارت کی لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا اور پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال شامل ہیں۔عبوری قیادت نے پاکستان، بھارت، چین، سعودی عرب اور ملائیشیا سمیت 13 ممالک کے سربراہان کو بھی دعوت دی تھی۔
مزید پڑھیؒں:سوڈان کے بازار پرحملہ، 28 افراد ہلاک


