اسلام آباد (اوصاف نیوز) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما علی امین گنڈاپور نے ضلع کچہری میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پارٹی کی اندرونی صورتحال
، بانی چیئرمین عمران خان کی جیل میں مشکلات اور سیاسی حکمت عملی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی کے اندرونی معاملات ٹھیک ہوتے تو بانی چیئرمین جیل سے باہر ہوتے، لیکن ملک کا قانون و انصاف کا نظام درست نہیں ہے۔علی امین گنڈاپور نے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ پارٹی کی ناکامیوں میں ان کی بھی غلطیاں شامل ہیں اور کہا کہ شاید ہمارے نیتوں میں فرق ہے یا داخلی اختلافات کی وجہ سے ہم بار بار ناکام ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض افراد مقصد سے ہٹ کر کام کر رہے ہیں، اور نادانی اور بے وقوفی کی وجہ سے پارٹی کے اقدامات درست نتائج نہیں دے پا رہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی ہر شخص کا احترام کرتی ہے، اور بانی پی ٹی آئی کے سخت وقت میں ان کے لیے غصے میں بات کرنا سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے شدید دباؤ اور مہم چلائی گئی تھی، لیکن موجودہ صورتحال میں نہ صرف رہائی دور ہے بلکہ بانی پی ٹی آئی کو ان کے ذاتی معالج تک رسائی بھی نہیں دی جا رہی۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ دباؤ باتوں سے نہیں بلکہ عملی رویے سے بنتا ہے۔
اور ہر اقدام کا اثر صرف عمل سے ہوتا ہے، نہ کہ ٹی وی پروگرام یا سوشل میڈیا پر دھمکیوں سے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پہلے بھی خاموش نہیں رہے، وزیر اعلیٰ کے عہدے کے دوران بھی پارٹی کے لیے سرگرم رہے، اور حالیہ ریلیوں اور احتجاجی سرگرمیوں میں سب سے زیادہ ایکٹویٹی کی، پانچ دنوں میں بارہ گھنٹے بھی نہیں سوئے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کے مسائل حل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے، چاہے اس کے لیے دباؤ بڑھانا پڑے، اور یہ کہ حقیقی تبدیلی اور نتائج صرف عملی اقدامات اور صحیح رہنمائی سے ہی ممکن ہیں۔
یہ گفتگو پارٹی کے اندرونی مسائل، رہنما کی ذاتی ذمہ داری اور عمران خان کی موجودہ صورتحال کی تفصیلی تصویر پیش کرتی ہے، اور ظاہر کرتی ہے کہ علی امین گنڈاپور پارٹی کی مستقبل کی حکمت عملی میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
مزید پڑھیں: نادرا کا جعلی پاکستانی شناختی کارڈ رکھنے والے افغان باشندوں کیخلاف آپریشن
