اسلام آباد (اوصاف نیوز) امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف محدود فوجی حملے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس ممکنہ کارروائی کا مقصد ایران پر دباؤ ڈال کر اسے جوہری معاہدے سے متعلق امریکی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنا ہے۔
اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں محدود نوعیت کے حملے کے ذریعے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی جائے گی۔ اگر اس کے باوجود معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر عسکری کارروائی کا امکان بھی موجود ہے۔ ابتدائی حملوں میں ایران کی چند فوجی یا سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے تاکہ تہران حکومت پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اگر ایران نے یورینیم افزودگی کا عمل بند نہ کیا تو امریکہ ایرانی تنصیبات کے خلاف وسیع فوجی مہم شروع کر سکتا ہے، جس میں حکومت کی تبدیلی جیسے اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس رپورٹ کی جزوی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس آپشن پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایران کو 10 دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ کیا گیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایئر فورس ون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو چاہیے کہ وہ آئندہ دس سے پندرہ دن کے اندر معاہدہ کر لے۔ بصورت دیگر حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو معاہدہ “کسی نہ کسی صورت” طے کرایا جائے گا، جس سے ممکنہ عسکری کارروائی کا عندیہ بھی ملتا ہے۔ امریکی موقف کے مطابق ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے حل کے لیے تمام آپشنز زیر غور ہیں۔
مزید پڑھیں:صدقۂ فطر اور فدیہ و کفارۂ صوم کی کم از کم مقدار کتنی ہے؟


