Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

امریکا کا ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ، جنگ دوسرے ہفتے میں داخل

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے علاوہ تہران کے ساتھ کوئی معاہدہ ممکن نہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔

امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کو مکمل طور پر ہتھیار ڈالنا ہوگا، اس کے بعد ہی ایک قابل قبول قیادت کے انتخاب اور ملک کی معاشی بحالی کے لیے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پیزیشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ مختلف ممالک اس تنازع کے حل کے لیے ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ثالثی کے عمل میں ان عناصر کا احتساب بھی ہونا چاہیے جنہوں نے ایرانی عوام کو کمزور سمجھتے ہوئے اس تنازع کو ہوا دی۔

ادھر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے حملوں میں نمایاں شدت لائی جائے گی، جبکہ اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال ضمیر نے ایرانی حکومت اور اس کی عسکری صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارےیونائٹیڈ نیشن ہائی کمیشن آف رفیوجیز کے مطابق لبنان میں بھی صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے جہاں اسرائیل اور ایران سے منسلک تنظیم حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں کے بعد ایک بڑی انسانی ہنگامی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی اعلیٰ قیادت سے متعلق بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ اس حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ‌خامنہ ای کا ایران کی آئندہ قیادت کے لیے سامنے آنا واشنگٹن کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا۔
مزید پڑھیں‌:حکومت نے پٹرول اورڈیز ل کی قیمت میں 55،55روپے اضافہ کردیا

یہ بھی پڑھیں