لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ کی سیاست میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب حکومت نے وزیر اعظم کے سابق امریکی سفیر پیٹر مینڈیلسن سے متعلق خفیہ دستاویزات کی
پہلی قسط جاری کر دی۔ یہ فائلیں معروف “مینڈیلسن فائلز” کے نام سے سامنے آئی ہیں جن میں متنازع امریکی مالی معاون جیفری ایپسٹین کے ساتھ مبینہ روابط کا ذکر کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ان دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ وزیر اعظم کو مینڈیلسن کی تقرری سے پہلے ہی “ساکھ کے خطرے” کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا۔ فائلوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایپسٹین کے ساتھ مینڈیلسن کے روابط کم از کم 2011 تک برقرار رہے تھے، حالانکہ اس وقت تک ایپسٹین ایک نابالغ سے متعلق مقدمے میں سزا پا چکا تھا۔

برطانوی وزیراعظم کے سیکیورٹی مشیر جوناتھن پاول نے بھی اپنی رائے میں کہا کہ مینڈیلسن کی تقرری “غیر معمولی طور پر جلد بازی میں” کی گئی تھی۔ دستاویزات میں یہ بھی خبردار کیا گیا تھا کہ اگر مستقبل میں کوئی تنازعہ سامنے آیا تو اس سے حکومت مزید سیاسی نقصان کا شکار ہو سکتی ہے۔

برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے جمعرات کو اس بنا ء پر جیفری ایپسٹین کے متاثرین سے معافی مانگ لی کہ انہوں نے پیٹر مینڈل سن کو امریکی سفیر مقرر کیا تھا۔
مینڈل سن پر الزام ہے کہ ان کا جنسی مجرم ایپسٹین کے ساتھ قریبی تعلق رہا، جو جمعہ کو جاری ہونے والی دستاویزات میں سامنے آیا۔اسٹارمر نے کہا،میں متاثرین سے معافی مانگتا ہوں جو شدید صدمے سے گزرے ، اور جنہیں انصاف تاخیر کے بعد یا اکثر نہیں ملا۔ میں معافی مانگتا ہوں کہ مینڈل سن کے جھوٹ پر یقین کیا اور انہیں مقرر کیا۔
مینڈل سن اس ہفتے پارلیمنٹ کے ہاؤس آف لارڈز سے بھی استعفیٰ دے چکے ہیں۔اسٹارمر کا کہنا ہے کہ مینڈل سن نے سفارت کا عہدہ حاصل کرنے کے لیے بار بار جھوٹ بولا، اور وزیرِاعظم کو پہلے اس دوستی کی گہرائی کا علم نہیں تھا۔ تاہم بدھ کو انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ جانتے تھے کہ تعلقات برقرار رہے۔
، حالانکہ ایپسٹین کو 2008 میں نابالغ سے ناجائز تعلقات کی کوشش پر سزا ہوئی تھی۔برطانوی پارلیمنٹ نے ووٹ کے ذریعے حکومت پر مجبور کیا کہ تعیین سے متعلق تمام دستاویزات کراس پارٹی انٹیلی جنس اور سکیورٹی کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیں۔
لیبر پارٹی کے قانون ساز کارل ٹرنر نے کہا کہ یہ صورتحال سب سے زیادہ غصے والی ہے جو انہوں نے 16 سال میں دیکھی۔ہم یہ ظاہر نہیں کر سکتے کہ یہ کوئی بحران کی صورتحال نہیں ہے ۔
اسٹارمر کی لیبر پارٹی کے ارکان سوال کر رہے ہیں کہ آیا وہ وزیرِاعظم کے طور پر برقرار رہ سکتے ہیں؟ ۔اپوزیشن جماعتیں اسٹارمر سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ اپنے چیف آف سٹاف مورگن میک سویینی کو برطرف کریں،
جو مینڈل سن کا دیرینہ حلیف ہے ۔ اسٹارمر نے اپنے معاون کا عوامی طور پر دفاع کیا ہے ۔یہ بحران لیبر پارٹی کے اقتدار میں آنے کے صرف 19 مہینے بعد سامنے آیا ہے ، اور اس ماہ ہونے والے ایک اہم ضمنی الیکشن اور مئی میں مقامی انتخابات کے پیش نظر پارٹی کے لیے چیلنج بڑھا رہا ہے ۔اس سیاسی تنازعے نے برطانوی پاؤنڈ اور طویل مدتی بانڈز پر اثر ڈالا، اور بدھ سے جمعرات کے دوران پاؤنڈ سب سے کمزور کرنسی رہا۔
مزید پڑھیں:جیسی کرنی ویسی بھرنی؛ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اپنے منطقی انجام آن پہنچا


