Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

پاکستان میں‌امریکی قونصل خانہ بند کرنے کا فیصلہ، اہم تفصیلات سامنے آگئیں‌

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی محکمہ خارجہ نے پشاور میں اپنا قونصل خانہ مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق پشاور میں امریکی قونصل خانہ افغان سرحد کے قریب امریکا کا اہم سفارتی مشن سمجھا جاتا تھا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے رواں ہفتے کانگریس کو اس فیصلے سے آگاہ کیا۔ محکمہ خارجہ کے مطابق قونصل خانے کی بندش سے سالانہ 7.5 ملین ڈالر کی بچت ہوگی اور پاکستان میں امریکی قومی مفادات کے فروغ پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے سے پہلے، اس کے دوران اور بعد میں پشاور قونصل خانہ آپریشنز اور لاجسٹکس کا اہم مرکز تھا۔

رپورٹ کے مطابق اس فیصلے پر ایک سال سے زائد عرصے سے غور کیا جا رہا تھا اور یہ ٹرمپ انتظامیہ کے وفاقی ایجنسیوں کا حجم کم کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ حکام کے مطابق اس فیصلے کا ایران جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

محکمہ خارجہ کی تنظیم نو کے ایک حصے کے طور پر گزشتہ سال ہزاروں سفارتی عملے کو فارغ کر دیا گیا تھا، جبکہ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کے عملے کو بھی تقریباً مکمل طور پر فارغ کر دیا گیا تھا۔ تاہم، پشاور قونصل خانہ بیرون ملک پہلا سفارتی مشن ہو گا جو محکمہ خارجہ کی تنظیم نو کے نتیجے میں مکمل طور پر بند ہو گا۔

پشاور کے قونصل خانے میں مبینہ طور پر 89 مقامی ملازمین کے ساتھ 18 امریکی سفارت کار اور دیگر سرکاری اہلکار تعینات ہیں۔

پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش پر تقریباً 3 ملین ڈالر لاگت آئے گی۔ رقم کا بڑا حصہ عارضی دفاتر کے طور پر استعمال ہونے والے بکتر بند ٹریلرز کو منتقل کرنے پر خرچ کیا جائے گا، جب کہ باقی رقم اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے اور کراچی اور لاہور میں قونصل خانوں کو گاڑیوں، الیکٹرانک اور ٹیلی کمیونیکیشن کے آلات اور دفتری سامان کی منتقلی پر خرچ کی جائے گی۔

محکمہ خارجہ نے کہا کہ امریکی شہریوں اور دیگر کے قونصلر امور اب اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ سنبھالے گا۔
مزید پڑھیں‌:موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر گاڑیوں کی حدِ رفتار میں کمی کر دی گئی

یہ بھی پڑھیں