ایران (اوصاف نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید متاثر کر دیا ہے، خصوصاً ایران کے بڑے گیس فیلڈ پر حملے کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے ایران کے سب سے بڑے گیس فیلڈ ساؤتھ پارس پر حملے کے بعد عالمی منڈی میں بے یقینی کی فضا پیدا ہو گئی، جس کے نتیجے میں برینٹ کروڈ کی قیمت 5 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 108.66 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 98.65 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں یہ اضافہ اس خدشے کے باعث ہوا کہ خطے میں جاری جنگ طویل ہو سکتی ہے، جس سے تیل اور گیس کی عالمی سپلائی مزید متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ساؤتھ پارس گیس فیلڈ، جو صوبہ بوشہر کے ساحل کے قریب واقع ہے، دنیا کے سب سے بڑے گیس ذخائر میں شمار ہوتا ہے، اور اس پر حملہ عالمی توانائی نظام کے لیے بڑا دھچکا ہے۔
دوسری جانب اسلامی انقلابی گارڈ کور (پاسدارانِ انقلاب) نے ردعمل دیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ وہ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی تیل و گیس تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے پورے خطے میں خوف اور غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔
اسی دوران قطر کے راس لفان گیس فیسلٹی میں ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے بعد آگ لگنے کی اطلاعات سامنے آئیں، جسے بعد ازاں حکام نے قابو میں آنے کی تصدیق کر دی۔
موجودہ صورتحال میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور ایران کی جوابی کارروائیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ سے تیل و گیس کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے، جبکہ کئی مقامات پر پیداوار بھی معطل کر دی گئی ہے، جس سے عالمی توانائی بحران کے خدشات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔
مزید پڑھیں:ریاض پر ایران کا میزائل حملہ، شہریوں کو پہلی بار موبائل فونز پر ہنگامی الرٹس جاری



