اسلام آباد( نیوز ڈیسک) مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ایک ہفتے کے دوران دوسرا ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی صورتحال اور امن کے قیام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی گفتگو میں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، اس میں کمی کے امکانات اور سفارتی اقدامات پر غور کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایران پر حالیہ حملوں، خصوصاً شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایرانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لیے دعا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی خواہش ظاہر کی۔
گفتگو کے دوران وزیراعظم نے ایرانی صدر کو پاکستان کی جانب سے امریکا، خلیجی اور دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں سے بھی آگاہ کیا، جن کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور امن کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مشترکہ کوششوں سے خطے میں کشیدگی میں کمی لائی جا سکے گی اور پائیدار امن کی راہ ہموار ہوگی۔
مزید پڑھیں:پاور بینک فلائٹ پابندی: دوران پرواز استعمال اور چارجنگ پر عالمی سطح پر پابندی
