او صاف نیوز) ایک سینئر پاکستانی ذریعے کے مطابق پاکستان میں ہونے والے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ کسی نتیجے کے بغیر ختم ہونے کے بعد اسلام آباد نے دونوں فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
اگرچہ دونوں ممالک کے حکام نے عوامی سطح پر اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کیا، تاہم ابتدائی دور کسی باضابطہ معاہدے کے بغیر اختتام پذیر ہوا۔ کسی بڑی پیش رفت کے نہ ہونے کے باوجود پاکستانی حکام آئندہ رابطوں کے امکانات کے حوالے سے محتاط امید برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
ایک اعلیٰ سطحی ذریعے نے بتایا کہ پاکستان مسلسل واشنگٹن اور تہران کے ساتھ رابطے میں ہے اور جلد از جلد مذاکرات کی بحالی پر زور دے رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق بنیادی ہدف یہ ہے کہ بائیس اپریل کو ختم ہونے والی جنگ بندی سے قبل ایک قابلِ عمل مفاہمت طے پا جائے تاکہ کسی نئے تصادم سے بچا جا سکے۔ ذریعے نے صورتحال کی سنگینی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کوشش ہے کہ مقررہ وقت سے پہلے اس معاملے کو حل کر لیا جائے۔
مزید بتایا گیا کہ اس اہم مرحلے میں مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کے لیے کوششیں جاری ہیں، جو براہِ راست حکومتی قیادت کی ہدایات کے تحت ہو رہی ہیں، جس سے اس معاملے کو دی جانے والی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
اسحاق ڈار اور عاصم منیر اس سفارتی عمل کی قیادت کر رہے ہیں اور دونوں رہنماؤں نے ابتدائی طور پر فریقین کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق دونوں شخصیات اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مسلسل متحرک ہیں اور دن رات کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی دونوں ممالک کو مذاکرات کی بحالی کی خواہش سے آگاہ کر چکا ہے اور اب ان کے ردِعمل کا منتظر ہے۔
حکام کو امید ہے کہ کشیدگی میں مزید اضافہ روکنے اور محدود وقت میں سفارتی حل نکالنے کے لیے پیش رفت تیز ہو سکتی ہے۔ اگرچہ چیلنجز بدستور موجود ہیں
مزید پڑھیں:لاہور: داتا دربار کا تعمیری کام کے دوران حادثہ ایک جان بحق
