(اوصاف نیوز) تازہ ترین تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایک نئی قسم کا ’تاریک مادے (ڈارک میٹر)‘ کائنات کے کچھ راز سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خلا میں خود سے ٹکرانے والے ’سیلف انٹریکٹنگ ڈارک میٹر (ایس آئی ڈی ایم)‘ کےکثیف جتھے موجود ہیں جن مین ہر ایک سورج سے لاکھوں گُنا زیادہ وزنی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ ماڈل ماہرینِ فلکیات کے تین بڑے مسئلوں کو حل کر سکتا ہے جن میں جن میں گریویٹیشنل لینس، اسٹیلر اسٹریمز اور سیٹلائیٹ کہکشائیں شامل ہیں۔ہماری کائنات کا 85 فی صد حصہ ڈارک میٹر کائنات پر مشتمل ہے،جو بظاہر نظر نہیں آتا۔جس کا مطلب ہے یہ ماہرین سے پوشیدہ رہتا ہے ۔
اس کو سمجھنے کے لیے کائنات کے مشاہدے میں آنے والے حصوں پر مرتب ہونے والے اثرات کو سمجھنا ہوگا۔نئی تحقیق میں یہ واضع کیا گیا ہے کہ نئے ماڈل کے مطابق ڈارک میٹر ذرّات ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں اور توانائی کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔اس کےنتیجے میں ’گریوو تھرمل کولیپس‘ ہو سکتا ہے جس سے انتہائی کثیف مراکز بن سکتے ہیں
مزید پڑھیں:پاکستانیوں کیلئے خوشخبری ، سعودی عرب نے اپنا وعدہ پورا کردیا
