Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

وزیر اعظم نے معافی مانگ لی

(اوصاف نیوز): برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ایپسٹین کیس کے متاثرین سے معافی مانگتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ مینڈیلسن کی بطور امریکی سفیر تقرری ایک غلط فیصلہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تقرری نہیں ہونی چاہیے تھی اور وہ اس پر دوبارہ معذرت خواہ ہیں۔

یاد رہے کہ اسٹارمر نے ایپسٹین کیس سے منسلک Peter Mandelson کو امریکا میں برطانیہ کا سفیر مقرر کیا تھا۔

دوسری جانب امریکا کے سابق صدربل کلنٹن نے ان سے متعلق نئی تصاویر جاری کیے جانے پر شدید ردعمل دیا ہے۔ ان کے ترجمان کے مطابق حکومت انہیں جیفری ایپسٹین کیس میں جان بوجھ کر نشانہ بنا رہی ہے اور توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پرانی اور غیر واضح تصاویر جاری کرنا اصل حقائق کو نہیں بدلتا، اور یہ کیس کبھی بھی بل کلنٹن سے متعلق نہیں رہا۔ بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حلقے بھی اس معاملے پر غلط بیانی کی نشاندہی کر چکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی مقاصد کے لیے حقائق کو توڑا مروڑا جا رہا ہے۔

کلنٹن کے نمائندے نے ایپسٹین کے ساتھ مبینہ تعلقات سے متعلق تصاویر پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ ایسے تھے جو اس کے جرائم سے لاعلم تھے اور حقیقت سامنے آتے ہی الگ ہو گئے، جبکہ دوسرے وہ تھے جو سب جانتے ہوئے بھی رابطے میں رہے۔ ان کے مطابق کلنٹن پہلے گروہ میں شامل ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ اس کیس میں ابھی بھی اہم سوالات باقی ہیں اور پرانی تصاویر جاری کر کے ان سے توجہ نہیں ہٹائی جا سکتی۔
مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی،تیل کی قیمت میں پھر اضافہ

یہ بھی پڑھیں