تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران نے امریکا کو نئی سفارتی پیشکش کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو کھولنے اور جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مرحلہ وار شرائط پیش کی ہیں، جسے خطے میں ممکنہ پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پیشکش ایک امریکی اہلکار اور معاملے سے واقف دیگر ذرائع سے سامنے آئی ہے۔ ایران نے ایک مرحلہ وار حکمت عملی تجویز کی ہے جس کے تحت فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
ذرائع کے مطابق ایران کی تجویز ہے کہ پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے اور جنگ بندی کی جانب پیش رفت کی جائے جب کہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک ملتوی کر دیا جائے۔ اس حکمت عملی کا مقصد فوری بحران کو کم کرنا اور بعد میں پیچیدہ مسائل پر بات کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے یہ پیغام پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچایا ہے جو اس وقت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس پیش رفت سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔
واضح رہے کہ خلیجی خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں، خاص طور پر تیل کی فراہمی اور توانائی کے شعبے میں غیر یقینی کی صورتحال بڑھ رہی ہے۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران پر جارحانہ حملہ کیا تھا۔ پہلے ہی دن دہشت گردوں کے حملوں میں لڑکیوں کے کالج کو نشانہ بنایا گیا، جس میں اساتذہ سمیت 167 افراد شہید ہوئے۔ عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں.
مزید پڑھیں:حکومت کے لئے بڑا ریلیف ! پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کی کالعدم دفعات بحال

