Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

ریئل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض کی انٹرپول کے ذریعے گرفتاری ؟ ریڈ نوٹس جاری ،کارروائی کا آغاز؟

اسلام آباد (اوصاف نیوز)پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) کے سربراہ کا دعویٰ ہے کہ ریئل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض ملک کے خلاف انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔

نیب کے ایک ترجمان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ بدھ کو صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران نیب کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد نے ملک ریاض اور ان کے بیٹے کے خلاف ریڈ نوٹس جاری ہونے کی اطلاع دی ہے۔

چیئرمین نیب کے مطابق ریڈ نوٹس ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں کرپشن کے مقدمات کی بنیاد پر جاری کیے گئے ہیں۔

ریڈ نوٹس دنیا بھر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کی جانے والی ایک درخواست ہوتی ہے، جس کا مقصد کسی شخص کو تلاش کرنا، اس کی حوالگی یا قانونی کارروائی تک عارضی طور پر اس کو گرفتار کرنا ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ انٹرپول کے مطابق ریڈ نوٹس کوئی ’بین الاقوامی وارنٹِ گرفتاری‘ نہیں۔

بی بی سی نے اس حوالے سے انٹرپول کے پریس آفس سے رابطہ کیا ہے تاہم اب تک انٹرپول نے نیب چیئرمین کے دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

دریں اثنا صحافیوں سے بات چیت کے دوران نیب کے ڈی جی آپریشنز کا کہنا تھا کہ ملک ریاض کے خلاف 900 ارب روپے سے زیادہ کی مبینہ کرپشن پر تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں۔

Bahria Town

بحریہ ٹاؤن کے بانی اور چیئرمین ملک ریاض اس وقت متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر ہیں اور ان کے ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق ان کی ریئل اسٹیٹ کمپنی دبئی ساؤتھ میں رہائشی اور تجارتی تعمیرات پر مشتمل ایک بڑا پروجیکٹ شروع کر چکی ہے جو کہ المکتوم ایئرپورٹ کے قریب واقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں