اسلام آباد(اوصاف نیوز)سینئر صحافی شہباز رانا نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان سے ڈیزل اور پیٹرول پر 80 روپے فی لیٹر تک لیوی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں اس معاملے پر غور کیا گیا، جہاں یہ بتایا گیا کہ لیوی میں اضافے کے حوالے سے 53 روپے فی لیٹر کا خلا موجود ہے۔ اجلاس میں وزارت خزانہ کو ہدایت دی گئی کہ وہ آئی ایم ایف سے اس معاملے پر بات چیت کرے اور کچھ رعایت حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
ابتدائی طور پر وزارت خزانہ آئی ایم ایف سے اس معاملے پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھی، جس کی بڑی وجہ 8 مئی کو آئی ایم ایف بورڈ کی جانب سے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری تھی۔ تاہم بعد ازاں مذاکرات ہوئے، جس کے نتیجے میں آئی ایم ایف نے جزوی نرمی دکھائی۔
53 روپے فی لیٹر لیوی کو ایک ساتھ نافذ کرنے کے بجائے دو اقساط میں بڑھانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے بعد فوری طور پر عوام پر پڑنے والا بوجھ کم ہو گیا ہے، جبکہ باقی اضافہ آئندہ ہفتے متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی بھی آتی ہے، تب بھی لیوی میں اضافہ برقرار رہے گا۔ اس لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی یا اضافہ اب بین الاقوامی مارکیٹ کے ساتھ ساتھ حکومتی ٹیکس پالیسی پر بھی منحصر ہوگا۔
مزید پڑھیں:تربوز کھانے سے اموات کا معاملہ، فارنسک رپورٹ میں بڑا انکشاف
