ویب ڈیسک: وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ پیٹرول لیوی ہے، اور اگر لیوی میں اضافہ نہ کیا جاتا تو آئی ایم ایف بورڈ سے منظوری میں مشکلات پیش آتیں
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کے اجلاس میں وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حکومت کو پیٹرول لیوی بڑھانا پڑی، جبکہ بجٹ ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی یہ اقدام ناگزیر تھا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ 80 روپے فی لیٹر لیوی پر اتفاق ہوا تھا، تاہم اس وقت پٹرولیم مصنوعات پر مجموعی طور پر 117 روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں۔
علی پرویز ملک کے مطابق پاکستان اپنی خام تیل کی ضروریات کا 47 فیصد سعودی عرب اور 45 فیصد متحدہ عرب امارات سے درآمد کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ صورتحال کے دوران ملک میں خام تیل اور ڈیزل کے ذخائر میں اضافہ کیا گیا تاکہ سپلائی متاثر نہ ہو۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ قطر سے ایل این جی کا ایک جہاز پاکستان پہنچ چکا ہے جبکہ دوسرا جہاز جلد پورٹ قاسم پہنچے گا۔ حکومت اس وقت سستی ایل این جی خریدنے کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔
کمیٹی اجلاس میں تیل کی قیمتوں، منافع خوری، ریفائنری نظام اور آئل کمپنیوں کے آڈٹ سے متعلق امور پر بھی تفصیلی غور کیا گیا
