اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انور نے انکشاف کیا ہے کہ تقریباً 10 ہزار پاکستانی شہری برطانیہ میں طلبہ ویزے پر داخل ہوئے اور بعد ازاں وہاں سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا دیں۔
یہ انکشاف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں کیا گیا، جہاں غیر قانونی امیگریشن، پاسپورٹ پالیسی اور فوجداری قوانین میں مجوزہ اصلاحات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک جانے والے افراد پاکستان کی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یورپی یونین سمیت مختلف ممالک نے اس مسئلے پر پاکستان سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ برطانیہ سیاسی پناہ کے لیے درخواست دینے والے پاکستانیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حال ہی میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ نے بھی پاکستانی شہریوں کی جانب سے سیاسی پناہ کی بڑھتی ہوئی درخواستوں پر تشویش ظاہر کی تھی۔ ان کے مطابق متعدد افراد غیر مجاز ایجنٹوں کے جھانسے میں آ کر ایسے اقدامات کر رہے ہیں۔
ڈی جی ایف آئی اے نے مزید انکشاف کیا کہ 580 پاکستانی بیلاروس جانے کے بعد واپس نہیں آئے، جبکہ 7 ہزار پاکستانی آذربائیجان وزٹ ویزے پر گئے اور ان میں سے بھی بڑی تعداد وطن واپس نہیں لوٹی۔ اسی طرح لیبیا سے گرفتار کیے گئے 175 پاکستانیوں کو واپس ملک لایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کی جا رہی ہیں تاکہ پاکستان کا تشخص متاثر نہ ہو اور شہری قانونی ذرائع سے بیرون ملک سفر کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر قانونی امیگریشن کے بڑھتے رجحان سے نہ صرف پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ بیرون ملک تعلیم اور روزگار کے خواہشمند حقیقی درخواست گزاروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔




