Search
Close this search box.
جمعرات ,11 جون ,2026ء

پنجاب میں انڈس ڈولفن وائلڈ لائف سینکچری قائم، نایاب آبی حیات کے تحفظ کی جانب اہم قدم

لاہور: انڈس ڈولفن وائلڈ لائف سینکچری کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے حکومت پنجاب نے دریائے سندھ کے ایک اہم حصے کو محفوظ علاقہ قرار دے دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نایاب انڈس ڈولفن اور دیگر آبی حیات کے قدرتی مسکن کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق دریائے سندھ میں جمبر بیت لندی پتافی سے گڈو بیراج تک کے علاقے کو ’’پنجند انڈس ریور ڈولفن وائلڈ لائف سینکچری‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ یہ علاقہ پنجاب میں انڈس ڈولفن کی سب سے بڑی آبادی کا مسکن سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق انڈس ڈولفن دنیا کی نایاب ترین میٹھے پانی کی ڈولفن اقسام میں شامل ہے اور اس کی بقا کے لیے قدرتی ماحول کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔ نئی سینکچری کے قیام سے ڈولفن کے خوراک، افزائش نسل اور نقل و حرکت کے قدرتی راستوں کو محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔

ماحولیاتی تنظیموں نے حکومت پنجاب کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دریاؤں میں آلودگی، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی، غیر قانونی شکار اور انسانی سرگرمیوں کے باعث انڈس ڈولفن کو مختلف خطرات کا سامنا ہے۔

نئی انڈس ڈولفن وائلڈ لائف سینکچری نہ صرف اس نایاب مخلوق کے تحفظ میں معاون ثابت ہوگی بلکہ دریائے سندھ کے پورے آبی نظام، مقامی مچھلیوں اور دیگر جنگلی حیات کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ محفوظ علاقوں کے قیام سے پاکستان میں ماحول دوست پالیسیوں کو فروغ ملے گا اور آنے والی نسلوں کے لیے قدرتی ورثے کو محفوظ رکھنے میں مدد حاصل ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں