کراچی میں زیر سماعت انمول عرف پنکی منشیات کیس ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گیا ہے، جہاں تفتیشی افسر نے عبوری چالان عدالت میں جمع کرا دیا ہے۔ چالان میں کیس سے متعلق کئی اہم اور حیران کن تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی پر الزام ہے کہ وہ طویل عرصے سے منشیات کی تیاری اور فروخت کے نیٹ ورک سے منسلک رہی ہے۔ چالان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے ابتدائی طور پر یہ طریقہ مبینہ طور پر اپنے سابق شوہر سے سیکھا اور بعد ازاں طلاق کے بعد خود اس غیر قانونی سرگرمی کو آگے بڑھایا۔
انمول عرف پنکی منشیات کیس کی دستاویزات کے مطابق ملزمہ مختلف افراد اور گروہوں کے ذریعے کراچی اور لاہور میں سرگرم رہی اور منشیات کی ترسیل کے لیے جدید طریقے استعمال کیے جاتے رہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کیس میں کئی افراد کو مفرور قرار دیا گیا ہے جبکہ متعدد گواہان کے بیانات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
چالان میں موبائل فونز، بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل شواہد کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن کے ذریعے مبینہ نیٹ ورک کی مالی اور رابطہ جاتی سرگرمیوں کا سراغ لگایا گیا۔ تفتیشی حکام کے مطابق مزید تحقیقات جاری ہیں اور آئندہ مراحل میں حتمی چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ اس کیس میں ملوث تمام عناصر کے خلاف کارروائی جاری رہے گی اور نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
