لاہور: پنجاب بجٹ 2026-27 آج صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جا رہا ہے جس سے قبل مختلف شعبوں کے لیے مجوزہ فنڈز اور ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ پنجاب بجٹ 2026-27 میں صحت، تعلیم، زراعت، بنیادی ڈھانچے اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔
مجوزہ بجٹ کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے ترقیاتی پروگرام میں ہزاروں جاری اور نئے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جاری منصوبوں کی تکمیل کے ساتھ ساتھ نئی اسکیموں کے آغاز کے لیے بھی خطیر رقم مختص کی گئی ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
صحت کے شعبے میں لاہور میں نواز شریف کینسر اسپتال کی تعمیر کے لیے 20 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح ڈیرہ غازی خان میں کلثوم نواز کینسر اسپتال کے قیام کے لیے بھی فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں مریم نواز ہیلتھ کلینکس کے لیے بھی بجٹ میں رقم مختص کی گئی ہے۔
تعلیم کے شعبے میں طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ پروگرام جاری رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ قصور میں نواز شریف انجینئرنگ یونیورسٹی کے منصوبے کو بھی بجٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ خصوصی بچوں کے لیے پنجاب بھر کے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں آٹزم اسکول قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
زراعت اور مویشی پال سیکٹر کے لیے کسان کارڈ اور لائیو اسٹاک کارڈ پروگراموں کے فنڈز میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے تاکہ کسانوں کو مزید سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ نوجوانوں کے لیے بین الاقوامی روزگار پروگرام اور خود کفالت اسکیم بھی بجٹ تجاویز کا حصہ ہیں۔
کھیلوں کے شعبے میں لاہور سمیت مختلف شہروں میں جدید اسپورٹس سہولیات کی فراہمی کے منصوبے شامل کیے گئے ہیں جبکہ لاہور میں اسپورٹس سٹی منصوبے پر بھی کام جاری رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پنجاب بجٹ 2026-27 میں ترقیاتی اور سماجی شعبوں پر توجہ دینے سے عوامی فلاح کے منصوبوں کو مزید تقویت مل سکتی ہے، تاہم بجٹ کے حتمی اعداد و شمار صوبائی اسمبلی میں پیش ہونے کے بعد ہی واضح ہوں گے۔

