لاہور: پنجاب حکومت نے پنجاب بجٹ 2026-27 صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے، جسے “عوام دوست” بجٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ نئے مالی سال کے لیے مجموعی طور پر 5.9 کھرب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ پنجاب میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ موجودہ سال کے مقابلے میں 10.7 فیصد زیادہ ہے، جس میں تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق پنجاب کی مجموعی آمدن کا تخمینہ 1.2 کھرب روپے لگایا گیا ہے جبکہ جاری اور ترقیاتی اخراجات میں اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 752 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
تعلیم کے شعبے کے لیے 750 ارب روپے اور صحت کے لیے 500 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تعلیم کے بجٹ میں 15 فیصد اور صحت کے بجٹ میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ جبکہ پنشن میں 3.5 فیصد اضافے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔
صحت کے شعبے میں لاہور میں زیر تعمیر کینسر انسٹیٹیوٹ کے لیے 20 ارب روپے اور لاہور میں نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ کے لیے 169 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح ڈی جی خان اور بہاولپور میں بھی نئے اسپتالوں کے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔
امن و امان کے لیے 252 ارب روپے جبکہ پولیس اسٹیشنز، سیف سٹی اور کرائم سین یونٹس کے لیے بھی اضافی فنڈز رکھے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ حکومت نے کوشش کی ہے کہ عوام پر کسی قسم کا نیا ٹیکس نہ لگایا جائے اور زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب بجٹ 2026-27 عوامی فلاح، ترقی اور خوشحالی کا بجٹ ہے جس کا مقصد شہریوں کی زندگی میں بہتری لانا ہے۔

