Search
Close this search box.
بدھ ,01 جولائی ,2026ء

کراچی میں آٹے کی قیمت میں بڑا اضافہ، شہری نئی مہنگائی سے پریشان

کراچی میں مہنگائی سے متاثر شہریوں کے لیے ایک اور بری خبر سامنے آگئی ہے، جہاں کراچی آٹے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق باریک اور ڈھائی نمبر آٹے کی قیمت میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران فی کلو 13 روپے تک اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث گھریلو بجٹ مزید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن جنید عزیز کے مطابق ڈھائی نمبر آٹے کی قیمت 119 روپے فی کلو سے بڑھ کر 132 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جبکہ باریک آٹے کی قیمت بھی 140 روپے فی کلو سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آٹے کی قیمت میں اضافے کی بنیادی وجہ گندم کی بڑھتی ہوئی قیمت ہے، جو صرف 15 روز میں 106 روپے سے بڑھ کر 118 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر گندم کی قیمتوں میں اسی رفتار سے اضافہ جاری رہا تو عام شہریوں کے لیے بنیادی خوراک کی خریداری مزید مشکل ہو جائے گی۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیش نظر حکومت کو فوری طور پر گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کرنا چاہیے تاکہ مارکیٹ میں قیمتوں کو مستحکم رکھا جا سکے۔

فلور ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اگر درآمد کا فیصلہ مزید مؤخر کیا گیا تو اس کا فائدہ ذخیرہ اندوز عناصر کو پہنچ سکتا ہے، جبکہ صارفین کو مزید مہنگا آٹا خریدنا پڑے گا۔ ان کے مطابق ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے کم از کم 30 سے 40 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنا ضروری ہے، تاہم درآمد کا فیصلہ ملکی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے تاکہ کسانوں کے مفادات بھی محفوظ رہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گرمیوں میں کراچی میں ہر ماہ تقریباً 20 سے 22 لاکھ آٹے کی بوریاں استعمال ہوتی ہیں، جبکہ سردیوں میں یہ طلب بڑھ کر تقریباً 26 لاکھ بوریوں تک پہنچ جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی آٹے کی قیمت میں حالیہ اضافہ مستقبل میں دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں