ریاض: خام تیل کی قیمت میں نمایاں کمی کرتے ہوئے سعودی عرب نے ایشیائی ممالک کے لیے اگست کی سپلائی پر سرکاری فروختی نرخ کم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کو عالمی توانائی مارکیٹ میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے خطے کے کئی درآمدی ممالک کو مالی ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی آرامکو نے مختلف خام تیل کے گریڈز کی قیمتوں میں کمی کی ہے، جبکہ بعض اقسام میں فی بیرل 11 ڈالر تک کمی کی گئی ہے۔ عرب لائٹ خام تیل بھی اب ایشیائی خریداروں کو علاقائی بینچ مارک کے مقابلے میں 1.50 ڈالر فی بیرل رعایت پر فراہم کیا جائے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی منڈی میں خام تیل کی رسد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اوپیک پلس کی جانب سے پیداوار بڑھانے کی پالیسی اور ایشیائی مارکیٹ، خصوصاً چین میں طلب میں سست روی نے بھی قیمتوں پر اثر ڈالا ہے۔
ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمت میں یہ کمی چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا، پاکستان اور دیگر ایشیائی درآمد کنندگان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ اس اقدام سے توانائی کی درآمدی لاگت کم ہونے، پیداواری اخراجات میں کمی آنے اور بعض ممالک میں مہنگائی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اوپیک پلس نے اگست سے یومیہ اضافی خام تیل کی پیداوار کی بھی منظوری دی ہے، جس سے عالمی منڈی میں رسد مزید بڑھنے کی توقع ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ ہفتوں میں عالمی تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے یہ پیش رفت زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

