اسلام آباد: پٹرول کی قیمت کے حوالے سے وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت پر کسی بھی قسم کا بیرونی دباؤ نہیں اور جیسے ہی عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی آئے گی، اس کا پورا فائدہ بغیر کسی تاخیر کے عوام تک پہنچایا جائے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اپنی ضرورت کا بیشتر خام تیل بیرونِ ملک سے درآمد کرتا ہے، اسی وجہ سے عالمی منڈی میں قیمتوں میں تبدیلی کا براہِ راست اثر مقامی نرخوں پر پڑتا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب آ چکی ہیں، تاہم پاکستان کو اب بھی درآمدی تیل پہلے کے مقابلے میں مہنگا مل رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم نے پیٹرولیم لیوی میں بھی نرمی کی ہے تاکہ عوام پر اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی جب عالمی قیمتوں میں کمی ہوئی تو حکومت نے فوری طور پر پٹرول کی قیمت میں نمایاں کمی کر کے عوام کو ریلیف فراہم کیا تھا، اور آئندہ بھی یہی پالیسی برقرار رہے گی۔
علی پرویز ملک نے مزید کہا کہ اوگرا گزشتہ کئی برسوں سے ایک شفاف طریقہ کار کے تحت عالمی مارکیٹ، درآمدی لاگت اور متعلقہ اخراجات کا جائزہ لے کر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قیمتوں کے تعین میں تمام معاشی عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق حکومت نے سستے ایندھن کی فراہمی اور عوامی سہولت کے لیے 130 ارب روپے مختص کیے ہیں تاکہ موٹر سائیکل سواروں اور پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو سہولت دینا ہے اور جیسے ہی عالمی منڈی میں حالات سازگار ہوں گے، اس کا فائدہ فوری طور پر صارفین تک منتقل کیا جائے گا۔


