Search
Close this search box.
منگل ,07 جولائی ,2026ء

برائن جانسن بیماری، ارب پتی بائیو ہیکر کو نایاب لاعلاج مرض کی تشخیص

نیویارک: برائن جانسن بیماری ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ طویل عمر کے تجربات اور جدید بائیو ہیکنگ منصوبوں کی وجہ سے شہرت رکھنے والے امریکی ارب پتی برائن جانسن نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ایک نایاب آٹو امیون بیماری گڈ پاسچر سنڈروم (Goodpasture Syndrome) لاحق ہو گئی ہے، جو گردوں اور پھیپھڑوں کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔

48 سالہ برائن جانسن نے اپنی صحت سے متعلق تازہ معلومات عوام کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹرز نے ان میں اس بیماری کی تشخیص کی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس مرض میں جسم کا مدافعتی نظام غلطی سے اپنے ہی صحت مند خلیات پر حملہ آور ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں گردوں کی کارکردگی متاثر ہونے اور پھیپھڑوں سے خون آنے جیسے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیماری کی عام علامات میں شدید تھکن، سانس لینے میں دشواری، خون کے ساتھ کھانسی، متلی اور جسم میں سوجن شامل ہیں۔ اگر بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو یہ مرض جان لیوا پیچیدگیوں کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

برائن جانسن بیماری کے انکشاف کے بعد ان کے مشہور اینٹی ایجنگ منصوبے “پروجیکٹ بلیو پرنٹ” پر بھی نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ برائن جانسن کئی برسوں سے اپنی حیاتیاتی عمر کم کرنے کے لیے سخت غذائی منصوبے، سینکڑوں سپلیمنٹس، خون کے مختلف ٹیسٹ، جین سے متعلق تجربات اور دیگر جدید طریقے اختیار کرتے رہے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال ایسا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ ان کے اینٹی ایجنگ تجربات براہِ راست اس بیماری کا سبب بنے، تاہم غیر معمولی حیاتیاتی مداخلتوں کے مدافعتی نظام پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق گڈ پاسچر سنڈروم کا مستقل علاج موجود نہیں، تاہم پلازما ایکسچینج، کورٹیکوسٹیرائیڈز اور مدافعتی نظام کو کنٹرول کرنے والی ادویات کے ذریعے بیماری کو کسی حد تک قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ صحت سے متعلق غیر ثابت شدہ تجربات کے بجائے مستند طبی مشورے اور سائنسی بنیادوں پر علاج کو ترجیح دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں