اسلام آباد(رضوان عباسی): وفاقی حکومت کے قرضے گزشتہ سوا دو سال کے دوران نمایاں حد تک بڑھ گئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تازہ دستاویزات کے مطابق مارچ 2024 سے مئی 2026 تک وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں میں 17 ہزار 139 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے حکومتی مالیاتی دباؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
دستاویزات کے مطابق مئی 2026 تک وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں کا حجم بڑھ کر 81 ہزار 949 ارب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ فروری 2024 میں یہ 64 ہزار 810 ارب روپے تھا۔ اس عرصے کے دوران مجموعی قرضوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس میں زیادہ حصہ مقامی قرضوں کا رہا۔
اعداد و شمار کے مطابق وفاقی حکومت کے قرضے بڑھنے کی بڑی وجہ اندرونی قرضوں میں اضافہ ہے۔ مئی 2026 تک مقامی قرضوں کا حجم 58 ہزار 107 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، جبکہ فروری 2024 میں یہ 42 ہزار 675 ارب روپے تھا۔ اس طرح مقامی قرضوں میں 15 ہزار 432 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
دوسری جانب بیرونی قرضوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق مئی 2026 تک بیرونی قرضے 23 ہزار 842 ارب روپے تک پہنچ گئے، جبکہ فروری 2024 میں ان کا حجم 22 ہزار 134 ارب روپے تھا۔ اس عرصے میں بیرونی قرضوں میں ایک ہزار 707 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے قرضے حکومت کے لیے مالی نظم و نسق، ترقیاتی منصوبوں اور قرضوں کی ادائیگی کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق محصولات میں اضافے، برآمدات کے فروغ اور مالیاتی اصلاحات کے ذریعے قرضوں پر انحصار کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسٹیٹ بینک کی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ عرصے میں قرضوں کے مجموعی حجم میں تیزی سے اضافہ ہوا، جبکہ اندرونی قرضے اس اضافے کا سب سے بڑا سبب بنے۔


