اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ایرانی ریال کو حالیہ عرصے میں شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہے اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر مسلسل کمزور سطح پر برقرار ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق ایران کی موجودہ اقتصادی صورتحال، افراطِ زر میں اضافہ اور عالمی و علاقائی عوامل نے کرنسی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کے باعث ریال کی قیمت میں روزانہ کی بنیاد پر نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔
تازہ ترین مارکیٹ رجحانات کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر تقریباً 17 لاکھ 50 ہزار سے 17 لاکھ 56 ہزار 500 ایرانی ریال کے درمیان خریدا اور فروخت کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ایرانی کرنسی پر موجود مسلسل دباؤ کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ سرمایہ کاروں اور کرنسی کا کاروبار کرنے والوں کو فیصلے کرتے وقت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیاں، بلند شرحِ مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ، بین الاقوامی تجارت میں مشکلات اور خطے کی کشیدہ صورتحال ایرانی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے، یہی وجوہات ہیں جن کے باعث اوپن مارکیٹ کا ریٹ عام لین دین اور تجارت کے لیے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ بڑی تعداد میں معاملات اسی شرح کے مطابق طے پاتے ہیں۔
پاکستانی روپے کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدر انتہائی کم سطح پر ہے،موجودہ اندازوں کے مطابق ایک ایرانی ریال تقریباً 0.00020 پاکستانی روپے کے برابر ہے جبکہ ایک پاکستانی روپے کے عوض تقریباً 4934.39 سے6330 تک ایرانی ریال حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں ایک کروڑ ایرانی ریال کی خرید و فروخت تقریباً 7 ہزار 500 سے 8 ہزار پاکستانی روپے کے درمیان جاری ہے۔ بعض سرمایہ کار مستقبل میں ریال کی قدر میں ممکنہ بہتری کی امید پر اس کرنسی میں دلچسپی لے رہے ہیں، تاہم ماہرین اسے زیادہ خطرے والی سرمایہ کاری قرار دیتے ہیں اور محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان کرنسی تبادلے یا مالی معاملات سے قبل تازہ ترین اوپن مارکیٹ ریٹس کی تصدیق کرنا ضروری ہے، ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ایرانی ریال کی قدر میں تیزی سے تبدیلی کا امکان برقرار ہے، اس لیے صرف مستند ذرائع اور لائسنس یافتہ ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے لین دین کرنا بہتر ہے۔
مزید پڑھیں۔کورونا وائرس کی بوسٹر ویکسینز سے متعلق ایک اہم اور حیران کن انکشافات سامنے آگئے


